معاہدے کو جاری رکھنے سے قبل جرمنی،فرانس اور برطانیہ سے ضمانت لینے کی ضرورت: خامنہ ای

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

تہران۔امریکہ سمیت دنیا کے چھ طاقتور ممالک اور یران کے درمیان نیوکلیائی معاہدہ کے تجدید سے امریکہ کے پیچھے ہٹنے کے اعلان کے بعد ایک طرف جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے وہیں اس معاہدہ میں شامل دوسرے ممالک بھی شش و پنچ میں نظرآرہے ہیں۔ فرانس،جرمنی اور برطانیہ بہ ظاہر اس معاہدہ کو برقرار رکھنے کی بات کررہے ہیں ،لیکن ایران کو ان ممالک پر اعتماد نہیں ہے۔

اسی پس منظر میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو کچھ شبہات لاحق ہیں اور انھوں نے ٹی وی پر خطاب میں کہا ہے کہ وہ ’’برطانیہ، فرانس یا جرمنی پر بھروسہ نہیں کرتے، اور اس معاہدے کو جای رکھنے سے قبل ان ممالک سے ضمانت لینے کی ضرورت ہے‘‘۔

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے جوہری معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ کر کے ’غلطی‘ کر دی ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ’’میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں، امریکہ پر بھروسہ نہ کرو۔‘‘انھوں نے ایرانی حکومت سے کہا کہ وہ اس معاہدہ کو جاری رکھنے کے لیے راضی ہونے سے قبل یورپی طاقتوں سے ضمانت لیں۔

Share This Article