سرینگر: ”مشن کشمیر“ کے تحت ریاست کے اپنے چوتھے دورے سے قبل مرکز کے نامزد مذاکرات کاردنیشور شرما نے کشمیریوں کے خلاف”فاسق پروپگنڈہ“ پر روک لگانے کےلئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ٹیلی ویژن نیوزچینلوں کی خصوصی میٹنگ طلب کرنے کی درخواست کی ہے ۔
مرکزی خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) کے سابق سربراہ دنیشور شرما نے بعض نیوز چینلوں کے ذریعے کشمیر کے بارے میں منفی تاثر دینے سے متعلق رپورٹوں اور مباحثوں کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے اوروہ اس سلسلے پر فوری روک لگانے کے حق میں ہیں۔
دنیشور شرما کو گزشتہ برس مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جموں کشمیر کےلئے مذاکرات کار نامزد کیا گیا جس کے بعد انہوں نے ریاست کے تین دوروں کے دوران سرینگر اور جموں سمیت مختلف اضلاع میں جاکر سماج کے مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔واضح رہے کہ پہلی بار سنگبازی کے واقعات میں ملوث نوجوانوں کےلئے عام معافی کا اعلان مذاکرات کارکی سفارش پر ہی کیا گیا۔
دلی سے شائع ہونے والی میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اب دنیشور شرما نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے استدعا کی ہے کہ وہ کچھ ٹیلی ویژن نیوز چینلوں کے حکام کی میٹنگ طلب کریں تاکہ ان چینلوں کے ذریعے بقول ان کے کشمیریوں کے خلاف”فاسق پروپگنڈہ“ چلانے پر روک لگائی جائے۔
انہوں نے وزیر داخلہ سے کہا ہے کہ نیوز چینلوں کو کشمیر کے حوالے سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جائے۔رپورٹ کے مطابق کم سے کم چار نیوز چینلوں کی طرف سے متواتر طور کشمیر میں پیش آنے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے جس کے ریاست میں شروع کئے گئے مذاکراتی عمل پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
رپورٹوں میں وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ”کبھی کبھار یہ نیوز چینل رئی کا پہاڑ بنادیتے ہیں ، بعض اوقات ایسے بے بنیاد مباحثے نشر کئے جاتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، اس سے علیحدگی پسند عناصر کو حکومت کے خلاف نفرت کے بیج بونے کا موقعہ فراہم ہوتا ہے “۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیوز چینلوں کے نمائندوں کی میٹنگ عنقریب طلب کی جائے گی اور انہیں کشمیر کے بارے میں رپورٹنگ کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا جائے گا۔تاہم مرکزی وزارت داخلہ انتہائی احتیاط کے ساتھ اس مسئلے سے نمٹ رہی ہے کیونکہ یہ معاملہ پریس کی آزادی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیشور شرما کے حالیہ دوروں کے دوران متعدد وفود خاص طور پر سیاحت سے وابستہ افراد نے ان کے ساتھ نیوز چینلوں کے ذریعے کشمیر کو لیکر منفی تاثر پیدا کرنے کا معاملہ اٹھایا۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی بار ہا اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے ۔

