مذاکرات کیلئے ہم خیال نہیں صحیح سوچ کی ضرورت : راجناتھ سنگھ

By
8 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

مرکز کی مذاکراتی پیشکش میں کوئی تضاد نہیں،سیز فائر میں توسیع کا فیصلہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائیگا

سری نگر:۷،جون:کے این این / مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ مذاکرات کیلئے ہم خیال نہیں بلکہ صحیح سوچ کی ضرورت ہے جبکہ علیحدگی پسند جموں وکشمیر کے امن وامان کی خاطرآگے آئیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ ہے جسکے تحت ریاست کیلئے خصوصی مذاکرات کارمقرر کیا گیا ۔مرکزی وزیر داخلہ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ حکومت ہند کی مذاکراتی پیشکش میں کوئی تضاد نہیں ہے جبکہ سیز فائر میں توسیع کا فیصلہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائیگا ۔ کشمیری نوجوانوں کو بھارت کے مستقبل کا سر مایہ اور اثاثہ قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت مخالف طاقتیں یہاں کے نوجوانوں کو گمراہ کررہی ہیں ،تاکہ بھارت اور جموں وکشمیر کی اقتصادی ترقی آگے نہ بڑھ سکے اور ملک ہند غیر مستحکم ہو ۔ جموں وکشمیر کے خصوصی دو روزہ دورے کے پہلے روز راج ناتھ سنگھ نے سرینگر میں قیام کیا ،جس دوران انہوں نے شیر کشمیر انٹر نیشنل کنو کیشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی ) میں ایک پرہجوم پریس کانگرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی بات چیت کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہے اور کشمیر معاملے کو گفت شنید کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے ۔راج ناتھ سنگھ نے کہا ’ بات چیت سب سے ہوسکتی ہے ‘۔ان کا کہناتھا ’مذاکرات کیلئے ہم خیال نہیں بلکہ صحیح سوچ ہونی چاہئے ‘۔راجناتھ سنگھ نے مذاکرات کے حوالے سے بتایا کہ جو کوئی بھی مذاکرات کا خواہاں ہیں ، اُسے ہم خیال نہیں بلکہ اُس کی صحیح سوچ ہونی چاہیے کیونکہ مذاکرات کی کامیابی مثبت سوچ میں ہی مضمر ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ حکومت ہند کی مذاکراتی پیشکش میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان ہر ایک سے بات چیت کیلئے تیار ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ’’ ہم ہر ایک سے بات چیت کرسکتے ہیں ، مذاکرات کے دروازے ہر ایک کیلئے کھلے ہیں، لیکن مذاکرات امن کیلئے ہونے چاہیے ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کیلئے ہم خیال افراد کی نہیں بلکہ صحیح سوچ رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ جموں وکشمیر کیلئے خصوصی نمائندہ دنیشور شرما نامزد کیا ہے جنہوں نے ابھی تک 11مرتبہ ریاست جموں وکشمیر کا دورہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی مذاکرات کار ریاست کی سیر کیلئے نہیں بلکہ وہ کشمیر معاملے کا حل تلاش کرنے کیلئے ہر ایک طبقے سے بات چیت کررہے ہیں اور گذشتہ برس کے ماہ اکتوبر سے وہ اس حوالے سے مصروف عمل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلے دن سے ہی اس بات کا قائل رہا ہوں کہ ہر ایک سے بات ہونی چاہیے اور سماج کے ہر ایک طبقے سے بات کر کے ہی کشمیر معاملے کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے کہا کہ وہ کشمیر معاملے کا گالے سے نہیں بلکہ گلے لگانے سے حل چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے اُس فلسفے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر معاملے کا حل جمہوریت ، انسانیت اور کشمیریت میں مضمر ہے ، پر پورا یقین رکھتے ہیں ۔ اُن کا کہنا تھا کہ مرکزی سرکار مذاکرات کے ذریعے ہی کشمیر معاملے کا حل تلاش کرنا چاہتی ہے لہذا ہر ایک کو مذاکرات کیلئے آگے آنا چاہیے ۔‘۔انہوں نے سوالیہ اندا ز میں کہا ’کیا آپ چاہتے ہیں جموں وکشمیر کی ایک اور نسل کو اندھیرے میں گُم ہو ‘۔ ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ سیز فائیر میں توسیع کا فیصلہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی لیا جائیگا۔ پاکستان کا نام لئے بغیر وزیر داخلہ نے کہا کہ کچھ طاقتیں بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی درپے ہیں ۔انہوں نے کہا بھارت اس وقت دنیا بھر میں تیز ی کے ساتھ اقتصادی ترقی کی گامزن ہے اور حکومت پانچ اقتصادی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہونے کیلئے کام کررہی ہے ۔ کشمیری نوجوانوں کو بھارت کے مستقبل کا سر مایہ اور اثاثہ قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت مخالف طاقتیں یہاں کے نوجوانوں کو گمراہ کررہی ہیں ،تاکہ بھارت اور جموں وکشمیر کی اقتصادی ترقی آگے نہ بڑھ سکے اور ملک ہند غیر مستحکم ہو۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی نوجوانوں پر سیاست ہونی چاہئے ۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا ’نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ سیاست نہ کریں ‘۔ان کا کہناتھا کہ کشمیری نوجوانوں کو روزگار سے ہم کنار کرنے کیلئے مرکزی حکومت ہر سطح پر اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ اس کے لئے فورسز میں اسامیاں بھی پیدا کی گئیں ۔راج ناتھ سنگھ نے کشمیر ی نوجوانوں کے ٹیلنٹ سے بہت زیادہ متاثر ہونے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نوجوانوں نے صرف ریاستی ،ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر کار ہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں ۔انہوں نے کشمیری نوجوان جموں وکشمیر کا ہی نہیں بلکہ بھارت کا انمول سر مایہ اور اثاثہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کشمیر ی نوجوانوں کے مستقبل کے سنوار نے اور تابناک بنانے کیلئے وعدہ بند ہے ۔پریس کانفرنس سے قبل راج ناتھ سنگھ نے ایس کے آئی سی سی میں اعلیٰ سطحی میٹنگ میں جموں وکشمیر کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میٹنگ میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ،نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا ،کے علاوہ پولیس ،فوج وفورسز کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔ذرائع نے بتایا کہ پولیس ،فوج وفورسز کے افسران نے راج ناتھ سنگھ کو جموں وکشمیر کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے آگاہی فراہم کی ۔ذرائع نے بتایا کہ اس میٹنگ میں مرکزی داخلہ کو سالانہ امرناتھ یاترا کی حفاظت کیلئے اٹھائے جارہے اقدا مات کے علاوہ در اندازی کو روکنے اور ملی ٹنسی مخالف اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری دی گئی ۔اس موقعہ پر انہوں نے سیکورٹی ایجنسیوں پر زور دیا کہ ریاست خاص طور پر وادی کشمیر میں امن وامان کو برقرار رکھنے کیلئے بہتر تال میل کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں ۔انہوں نے کہاکہ سیکورٹی ا یجنسیاں ملی ٹنسی سے نمٹنے کے دوران عام لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کو ترجیحات میں رکھیں ۔

Share This Article