اساتذہ کا تنخواں لینے سے انکار، رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کا سنیچر سے ریاست گیر احتجاج کا اعلان

By
6 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

عید کے روز سرینگر کی پرتاب پارک میں احتجاج کی کال

سرینگر // ریاست کے چالیس ہزار سے زائید ایس ایس اے کے تحت کام کر نیوالے رہبر تعلیم ٹیچرز جو گذشتہ تین مہینوں سے تنخواؤں سے محروم ہیں کو اگرچہ دو روز قبل روز ایس ایس کے سٹیٹ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے ریاست کے متعقلہ چیف ایجوکیشن آفسران کے کھاتوں میں اپریل ماہ کی تنخواں ساتویں پیے کمشن کے بجائے چھٹے پیے کمشن کے حساب سے ڈال دی گئی ہے ۔ اس معاملے کو لیکر ریاست بھر کے
رہبر تعلیم اساتذہ سیخ پا ہیں ۔ ان کے علاوہ دس ہزار سے زائید جنرل لائن ہیڈٹیچرز جو کہ ایس ایس کے تحت اپ گریڈ کئے گئے سکولوں میں ہیڈ ٹیچر کی حثیت سے تعینات کئے گئے ہیں بھی شامل ہیں ۔ یہاں جاری ایک پریس بیان کے مطابق اس سلسلے میں جموں کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کا ایک ہنگامی اجلاس سرینگر میں فورم چیر مین فاروق احمد تانترے کی قیادت میں منعقد ہوا جس میں ریاست بھر کے فورم عہداران نے شرکت کی ۔ اس موقع پر فورم چیر مین نے کہا کہ وہ تنخواوں کے ڈلنک کا مطالبہ کر رہے تھے اور سرکار نے ان کو ایک اور پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔ فورم چیر مین نے مزید کہا کہ اساتذہ کی فروری کی تنخواں بقایا ہے جو کہ چھت پیے کمشن کے حساب سے ملنی تھی لیکن سرکار کی طرف سے گذشتہ روز فروری کو بقایا رکھ کر اپریل کی تنخوائیں ریاست کے 22 متعقلہ چیف ایجوکیشن آفسران کے کھاتوں میں چھٹے پیے کمشن کے حساب سے ڈالی ہیں جو کہ ساتویں پیے کمشن کے حساب سے اْنہیں ملنی تھی ۔ اْنہوں نے کہا ہے کہ سرکار کی اْنہوں نے کہا ہے کہ سرکار کی طرف سے جاری اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے کئی اساتذہ ذہنی قوفت میں مبتلاء
ہو گئے ہیں ۔اْنہوں نے کہا کہ اس سرکار نے اساتذہ کو خودکشی کر نے پر مجبور کر دیا ہے جو کہ قابل افسوس ہے ۔ اْنہوں نے کہا کہ سرکار اس آڈر کو فوری طور پر واپس لیکر ساتویں پیے کمشن کے حساب سے ریاست کے اکتالیس ہزار اساتذہ کی تنخوائیں واگذار کریں ۔ ان اساتذہ نے مزید کہا ہے کہ اگر سرکار کو ساتویں پیے کمشن کے لئے فوری طور پر رقومات کا انتظام کر نے میں کوئی دشواری پیش آ رہی ہے تو وہ اس رقم کو اپریل مہنے کے بجائے فروری ماہ کی بقایا تنخواہ کے تحت واگذار کریں تاکہ چار ماہ سے تنخواوں سے محروم اساتذہ کے بچے بھی کسی حد تک عید منا سکیں ۔ جمعرات کو ریاست بھر میں اساتذہ نے تحریری طور پر متعقلہ ڈی ڈی اوز کو لکھ کر دیا ہے کہ اپریل ماہ کی تنخواں اگر ساتویں پیے کمشن کے حساب سے نہ ڈالی گئی ہے تو اسے ان کے کھاتوں میں نہ جمع کیا جائے ۔ فورم چیرمین فاروق تانترے نے مزید کہا ہے کہ اساتذہ کی تذلیل کی جارہی ہے جبکہ ریاست کے دیگر تمام ملازمین نے ساتویں پیے کمشن کے دو تنخوائیں بھی حاصل تذلیل کی جارہی ہے جبکہ ریاست کے دیگر تمام ملازمین نے ساتویں پیے کمشن کے دو تنخوائیں بھی حاصل کی ہیں اور ایس ایس اے اساتذہ کوتین میہنوں کے بعد بھی ایک ماہ کی تنخواں بنا ساتویں کمشن کے دی جاری ہے ۔ میٹنگ میں فورم ممبران نے اس حوالے سے سکولوں کے بیکاٹ کا اعلان کیا ہے اور عید کے روز پرتاب پارک سرینگر میں جمع ہو کراحتجاج کا اعلان کیا ہے ۔ اْنہوں نے کہا ہے کہ جب تک نہ اْن کے ساتھ انصاف ہو گا وہ سکولوں میں ڈیوٹی پر نہیں جائیں گے ۔ فورم نے ایک احتجاجی کلینڈر جاری کرتے ہوئے11جون کو زونل ہیڈ کواٹر ، 13 جون کو, ضلع ہیڈ کواٹر پر احتجاج کی کال دی ہے جبکہ 14 جون کو سکول بیکاٹ کے علاوہ عید کے روز سرینگر کی پرتاب پارک میں عید کو سرکار کے خلاف احتجاج کی شکل میں منانیکا فیصلہ کیا ہے ان اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایس ایس اے اساتذہ جنہوں نے چھٹا پیے کمشن بھی لیا ہے سروس ریکارڈ میں بھی شامل ہیں ان میں سے کچھ پروموشن پا کر ماسٹر گریڈ بھی بن چکے ہیں لیکن آج محکمہ کی طرف سے اکتالیس ہزار اساتذہ کو ساتویں پیے کمشن کے اطلاق سے باہر رکھنا سرکار کی پالیسی کے اوپھر سوالیہ نشان لگاتا ہے ۔ اْنہوں نے وزیر اعلی محبوبہ مفتی ، وزیر تعلیم اور وزیر خزانہ سے اپیل کی ہے کہ تنخواں کے لئے واگذار کی گئی رقم کو فروری کی بقایا تنخواں کے تحت ادا کیا جائے اور اپریل ماہ کی تنخواں اْنہیں ساتویں پیے کمشن کے حساب سے ادا کی جانی چاہئے تاکہ اساتذہ کو ذہنی پریشانیوں کا سامنا نہ کر نا پڑے ۔ اْنہوں نے ے مزید کہا ہے کہ یہ سروس رولز کی سراسر خلاف ورزی ہے اور اساتذہ اسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے ۔

Share This Article