ویڈیو: محمد یاسین ملک کو سرینگر میں حراست میں لیا گیا ،کٹھوعہ سانحہ میں ملوثین کو پھانسی دی جائے :مزاحمتی قیادت

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر::پولیس نے لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کو درجنوںساتھیوں سمیت اُس وقت آبی گزر سرینگر سے حراست میں لیا گیا ،جب اُنکی قیادت یہاں مشترکہ مزاحمتی کارکنان نے کٹھوعہ واقعہ کے خلاف ایک احتجاجی مارچ نکالنے کی کوشش کی ۔

آبی گزر سرینگر کو پہلے ہی پولیس کی بھاری جمعیت نے گھیرے میں لیا تھا اور جونہی مشترکہ مزاحمتی قیادت نے یہاں گھنٹہ گھر لالچوک کی جانب کٹھوعہ میں سات سالہ معصوم بچی آصفہ بانوکے قتل اور عصمت ریزی کے واقعے کے خلاف مارچ نکالا تو پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے محمد یاسین ملک کو درجنوں ساتھیوں سمیت حراست میں لیا ۔اس احتجاجی ریلی سیول سوسائٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی ۔

حراست میں لینے سے قبل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔پریس کانفرنس سے سید علی گیلانی اور میر واعظ عمرفاروق نے خانہ نظر بندی کے باعث ٹیلی فونک خطاب کیا ۔

جے کے ایل ایف کے صدر دفتر آبی گزر سرینگر میں سر ِ راہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے یک زبان ہو کر کہا ’آج ہم یہ تجدید عہد کرتے ہیں ،کہ جموں کے مسلمانوں کو کسی بھی صورت میں تن تنہا نہیں چھوڑا جائیگا ‘۔

انہوں نے کٹھوعہ میں معصوم آصفہ بانو کے قتل اور عصمت ریزی واقعہ کو انتہائی افسوسناک اور ملزمان کے حق میں ترنگا کے تلے ریلی نکالنے کو فرقہ پرستی ذہنیت کی عکاس قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ اِس واقعہ میں ملوثین کے حق میں سیاسی لیڈران کی جانب سے ریلی نکالنا انسانیت کو شرمسار کرنے کے مترادف ہے ۔

مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ معصوم بچی کے قتل اور عصمت ریزی واقعے کو بھی فرقہ پرستی کا رنگ دیا جاریا ہے جبکہ یہ واقعہ خالصتاً انسانی ہے ۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے مانگ کی ہے کہ کٹھوعہ سانحہ میں ملوثین کو پھانسی کی سزا دی جائے کیو نکہ انسانیت کی تاریخ میں کہیں بھی ایک ایسی مثال نہیں ملتی کہ معصوم بچی کے قتل اور عصمت ریزی کے واقعے میں ملوثین کے حق میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ہو۔

انہوں نے کہا کہ وردی پوش ملزمان نے ایک ننھی کلی کو حوس کا شکار بنایا اور بعد میں قتل کردیا ،یہ سانحہ پوری انسانیت کےلئے درد ناک ہے اور اسکی جتنی بھی مذمت کی جائے ،اُتنا ہی کم ہے ۔

پریس کالونی میں سیول سوسائٹی اراکین کے علاوہ پنڈت ،سکھ اور عیسائی  طبقے کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔دریں اثناءوادی کشمیر کی سیول سائٹی نے بھی کٹھوعہ سانحہ پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا  ،جس میں کٹھوعہ سانحہ میں ملوثین کے حق میں ترنگا کے تلے نکالی گئی ریلی کو افسوسناک قرار دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کے حق میں ریلی نکالنا انسانیت کو سرمشار کرنے کے مترادف ہے ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے