لائن آف کنٹرول پر ہند پاک افواج کے درمیان آتشی گولہ باری کا سلسلہ جاری 

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
سرےنگر  لائن آف کنٹرول پر جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھیبرصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیا ن ایک بار پھر شدید فائرنگ ، اور ماٹر حملوں کے نتیجے آر پار کی گولہ باری کے باعث دونوں اطراف کئی رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا اور درجنوں کنبے ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ۔تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔
برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان سرحدوں پر ہورہی فائرنگ اور آتشی گولہ باری کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے نتیجے میں شہری آبادی نقصان ہو رہی ہے ۔
دفاعی ذرائع کے مطابق جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی پونچھ سیکٹر میں دونوںممالک کی افواج نے ایک دوسرے کے خلاف جنگی ہتھیاروںکا استعمال کیا جبکہ آر پار شدید فائرنگ کی ۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی رینجروںنے پونچھ سیکٹر وںمیں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کی اگلی چوکیوںپر اندھا دھند فائرنگ کی اور مارٹر گولے داغے اور شہری علاقوں کو بھی دونوں سیکٹروں میں نشانہ بنایا ۔
 دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی رینجروںنے اعلیٰ صبح فائرنگ اور آتشی گولہ باری کی جبکہ اسی طرح ارنیا کے دیگر علاقوں میں دوران شب ہی فائرنگ اور آتشی گولہ باری کی ۔ دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستانی رینجروںنے جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کرنے کے علاوہ مارٹر گولے بھی داغے جس کے نتیجے میں کئی شل بین الاقوامی سرحد کے قریب سرحدی دیہات میں جاگرے ۔
 دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی فائرنگ اور آتشی گولی باری کا اُس کے ہی انداز میں جواب دیا گیا اور طرفین کے مابین وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک فائرنگ اور آتشی گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا ۔دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کی فائرنگ سے اگرچہ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچ گیا ہے ۔
 دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی رینجروںنے راجوری میں 120ایم ایم اور 82ایم ایم کے مارٹر گولے داغے تھے ۔ادھر لائن آف کنٹرول پر شدید گولہ باری کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گی ہے ۔
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے