عمر رسیدہ اشخاص کی تھانہ نظر بندی قابل مذمت :صحرائی

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

انتقام گیرانہ کاروائیوں پر فوری طور پر روک لگائی جائے

سرینگر:۱۰،جون:/ تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی عمر رسیدہ اشخاص کی تھانہ نظر بندی کو قابل مذمت قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی انتقام گیرانہ کاروائیوں کو روک دینا چاہئے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابقچیرمین تحریک حریت محمد اشرف صحرائی نے حاجی غلام حسن خان ،عبدالغنی بٹ اور محمد مقبول پیر ساکنان میدان چوگل ہندوارہ کو گزشتہ تین دنوں سے پولیس چوکی وٹائن ہندوارہ میں گرفتار رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوارہ پولیس سربراہان کی سنگدلی کی انتہا ہے کہ 75سال کی عمر کے ان تینوں بزرگوں کو انتقام گیری کا نشانہ بنایا گیا ہے اور پولیس آفسر ان بزرگوں کو صبح سویرے تھانے پر بلاکر افطار کے بعد رہا کرکے دوسرے دن بھی تھانے پر حاضر ہونے کی تاکید کرتا ہے۔اس طرح گزشتہ تین دنوں سے یہ تینوں بزرگ دن بھر تھانے میں بند رہتے ہیں اور اہلخانہ کے مطابق یہ سلسلہ عید کے دن تک جاری رکھا جانے کا پولیس کا منصوبہ ہے۔ محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ یہ پولیس آفسر کی کھلی جارحیت اور انسانیت سے عاری کاروائی ہے کہ ان بے گناہ اور بے قصور بزرگوں کی عمر کا لحاظ کئے بغیر اُن کو روزہ داری کی حالت میں دن بھر شدت کی گرمی میں تھانے میں بند کیا جاتا ہے۔مذکورہ تینوں بزرگ سماج میں قابل عزت اور قابل احترام ہیں،وہ کوئی پیشہ ور مجرم نہیں ہیں ،کہ ان کو مجرموں کی طرح تھانے میں بند کردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اسلام پسند ہیں اور تحریک آزادی کے ساتھ محبت رکھتے ہیں،اسی لئے اُن کو انتقام گیری کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ اس طرح کی انتقام گیرانہ کاروائیوں کو روک دینا چاہئے۔ادھرتحریک حریت کے لیڈروں عمر عادل ڈار، عبدالرشید بیگ اور منظور احمد بٹ پر مشتمل وفد نے عبید احمد لون نوشہرہ سرینگر کے پونچھ میں بہیمانہ اور سفاکانہ قتل کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات پر زور دیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ عبید احمد لون نوشہرہ بابا غلام شاہ یونیورسٹی راجوری میں ڈیلی ویجر کے طور پر کام کرتا تھا۔ عبید احمد لون 25سال کو نوجوان تھا اور بیس روز پہلے اس کو لاپتہ کیا گیا اور پھر اس کی لاش پونچھ کے دریا میں پائی گئی۔ قتل کی یہ واردات ایک منصوبہ بند طریقے پر انجام دی گئی۔ اس کی لاش ملنے پر اس کو وہیں دفن کیا گیا، لیکن پھر اس کی شناخت ایک مشتبہ شخص کے ذریعے کروا کر 3دن قبل میت سرینگر لائی گئی۔ تحریک حریت وفد نے آج ان کے گھر جاکر اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی اس موقع پر تنظیم کے لیڈر عمر عادل ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبید احمد لون کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے، کیونکہ یہ قتل انتہائی سفاک طریقے پر انجام دیا گیا ہے اور اس قتل کے پیچھے ایک منصوبہ بند سازش کارفرما نظرآتی ہے۔ عمر عادل ڈار نے کہا ہمیں اسلام کے حیات بکش اصولوں کواپنانا ہوگا اور تحریک حریت کا کھل کر ساتھ دینا چاہیے، تاکہ ہم بھارتی استعمار سے آزادی حاصل کرسکیں گے۔

Share This Article