سب سے زیادہ ناصاف شہر اُترپریش کے 41شہروں کو سروے میں جگہ ملی
سرینگر/16دسمبر: صفائی ستھرائی کے معاملہ میںریاست جموں و کشمیر اترپردیش ، بہار ، راجستھان ، پنجاب اور کیرل کے شہروں کا برا حال ہے ۔ تازہ سروے میں ان کے بیشتر شہر سو پوائنٹ میں آخری نمبر پر ہیں۔کرنٹ نیوز آ انڈیا کے مطابق صفائی سروے 2018 میںریاست جموں و کشمیر کے کئی اضلاع صفائی کے معاملے میں بھارت کی دیگر ریاستوں کے اضلاع اور شہروں سے بہت پیچھے بتائے گئے ہیں ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اترپردیش کے 62 شہروں میں سے 41 کو آخری 100 میں جگہ ملی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی نے 32 واں مقام حاصل کرکے کچھ لاج بچائی۔ اس سال جنوری اور فروری میں ہوئے اس سروے میں ملک کے کل 434 شہروں کو شامل کیاگیا تھا۔ جن میں گونڈا آخری مقام پر رہا ۔ راجدھانی، لکھنؤ 269 ویں مقام پر رہا۔ صفائی کے معاملہ میں علی گڑھ ، جھانسی، کانپور، سہارنپور، جون پور ، الہ آباد، اجودھیا اور آگرہ کی حالت لکھنؤ سے بہتر رہی لیکن پورے ملک میں ان کا مقام 145 واں یا اس سے نیچے رہا۔ سروے میں آخری 50 مقامات میں سے 25 شہر اترپردیش کے ہیں۔ بہار کے 27 میں سے 15 شہر آخری100 میں رہے ۔ ریاست میں صفائی ستھرائی کے معاملہ میں بہار شریف سب سے بہتر رہا لیکن سروے میں اسے 147 واں مقام ملا۔ پٹنہ262 ویں مقام پر رہا۔ کشن گنج اس معاملہ میں سب سے آگے رہا۔ اسے 257 واں مقام حاصل ہوا۔ آخری دس مقام حاصل کرنے والے شہروں کی بات کی جائے تو ان میں اترپردیش کے پانچ گونڈا (434) ہردوئی (431) بہرائچ(429) شاہ جہاں پور(426) خورجہ (425) بہار کے دو بگہا (432)کٹیہار(430) پنجاب کے دو مکتسر (428) ابوہر (427) اور مہاراشٹر کا بھساول(433) شامل ہیں۔ سی این آئی کے مطابق راجستھان کے 29 شہروں میں کئے گئے سروے میں 18 شہروں کا مقام 300 سے نیچے رہا جب کہ 13 کو آخری سو میں جگہ ملی۔ بوندی صفائی کے معاملہ میں دیگر شہروں کے مقابلے سب سے آگے رہا لیکن وہ 171 واں مقام ہی حاصل کرسکا۔ ریاست جموں و کشمیر کے 5قصبہ جات جن میں سرینگر ، بڈگام ، اننت ناگ ، بارہمولہ اور سرینگر/16دسمبر /سی این آئی/ صفائی ستھرائی کے معاملہ میںریاست جموں و کشمیر اترپردیش ، بہار ، راجستھان ، پنجاب اور کیرل کے شہروں کا برا حال ہے ۔ تازہ سروے میں ان کے بیشتر شہر سو پوائنٹ میں آخری نمبر پر ہیں۔کرنٹ نیوز آ انڈیا کے مطابق صفائی سروے 2018 میںریاست جموں و کشمیر کے کئی اضلاع صفائی کے معاملے میں بھارت کی دیگر ریاستوں کے اضلاع اور شہروں سے بہت پیچھے بتائے گئے ہیں ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اترپردیش کے 62 شہروں میں سے 41 کو آخری 100 میں جگہ ملی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی نے 32 واں مقام حاصل کرکے کچھ لاج بچائی۔ اس سال جنوری اور فروری میں ہوئے اس سروے میں ملک کے کل 434 شہروں کو شامل کیاگیا تھا۔ جن میں گونڈا آخری مقام پر رہا ۔ راجدھانی، لکھنؤ 269 ویں مقام پر رہا۔ صفائی کے معاملہ میں علی گڑھ ، جھانسی، کانپور، سہارنپور، جون پور ، الہ آباد، اجودھیا اور آگرہ کی حالت لکھنؤ سے بہتر رہی لیکن پورے ملک میں ان کا مقام 145 واں یا اس سے نیچے رہا۔ سروے میں آخری 50 مقامات میں سے 25 شہر اترپردیش کے ہیں۔ بہار کے 27 میں سے 15 شہر آخری100 میں رہے ۔ ریاست میں صفائی ستھرائی کے معاملہ میں بہار شریف سب سے بہتر رہا لیکن سروے میں اسے 147 واں مقام ملا۔ پٹنہ262 ویں مقام پر رہا۔ کشن گنج اس معاملہ میں سب سے آگے رہا۔ اسے 257 واں مقام حاصل ہوا۔ آخری دس مقام حاصل کرنے والے شہروں کی بات کی جائے تو ان میں اترپردیش کے پانچ گونڈا (434) ہردوئی (431) بہرائچ(429) شاہ جہاں پور(426) خورجہ (425) بہار کے دو بگہا (432)کٹیہار(430) پنجاب کے دو مکتسر (428) ابوہر (427) اور مہاراشٹر کا بھساول(433) شامل ہیں۔ سی این آئی کے مطابق راجستھان کے 29 شہروں میں کئے گئے سروے میں 18 شہروں کا مقام 300 سے نیچے رہا جب کہ 13 کو آخری سو میں جگہ ملی۔ بوندی صفائی کے معاملہ میں دیگر شہروں کے مقابلے سب سے آگے رہا لیکن وہ 171 واں مقام ہی حاصل کرسکا۔ ریاست جموں و کشمیر کے 5قصبہ جات جن میں سرینگر ، بڈگام ، اننت ناگ ، بارہمولہ اور گاندربل شامل ہیں ۔ 330،331،332،334اور335باالترتیب کے مقام پر رکھے گئے ہیں پنجاب کے 16 میں سے سات شہر آخری سو میں رہے ۔ اس میں SAS مگر سب سے آگے رہا۔ اسے 121 واں مقام ملا۔ کیرل کے 9 میں سے چار شہر آخری سو میں رہے ۔ ریاست میں کوذی کوڈ سے 254 واں مقام حاصل کرکے سب سے آگے رہا۔
