سرینگر 29 دسمبر:معروف سماجی کارکن و دینی تنظیم جموں و کشمیر عالمہ امہ( Alam e Ummah) کے نائب صدر سید اعجاز کاشانی نے اپنے ایک موصولہ بیان میں کہاں ہے کہ دورے حاضر میں مذہبی و مسلکی رواداری و بھائی چارہ کو برقرار رکھنا یا بھائی چارے کا پرچم طلوع رکھنا انسانیت کی اولین ذمہ داری ہے موجودہ دور کے علماء پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے حالات کو مد نظر رکھ کر اور یہاں کی دینی اور فکری اکترا کو دیکھتے ہوئے تمام طبقہ فکر کو ایک سمت اور ایک راہ بنکر انسانیت کی عظمت کو ترجی دے کر اپنا فرض منصبی کا کردار بخوبی انجام دینا چاہیے۔ سید اعجاز کاشانی نے مزید کہا کہ علماۓ دین و مفکریین اور واعظین نے ہمیشہ امت کی سلامتی اور رہنمائی کے حوالے سے اپنی دینی و سماجی پیشوائی کی ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ وہ موجودہ دور میں اپنی تنظیمی اور مسلکی عقائد سے بالاتر ہو کر قوم کی سرخروئی اور امن و امان کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔ سید اعجاز کاشانی نے مزید کہا ہم تمام مسالک کی عزت کرتے ہیں، لیکن کچھ لوگ یہاں شیعہ سنی اور دیوبندی اور بریلوی نام پر فساد برپا کرکے یہاں کے روایتی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کے ماحول کو زک پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں خصوصاً نوجوانوں سے ان عناصر سے خبردار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان لوگوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔انہوں نے موجودہ وقت میں شیعہ سنی اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک قوم میں اتحاد و اتفاق نہیں ہوگا تب تک معاشرے میں سماجی بدعات یعنی منشیات کے کاروبار کو معاشرے سے باہر نہیں نکالا جا سکتا۔
