دانستہ پالیسی کے تحت عوام کومشکلات اور مصائب کا شکار بنایا جارہا
سرینگر28دسمبر:حریت کانفرنس کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے حکمرانوں کی جانب سے یہاں کے عوام کو بنیادی اور زندگی کی روز مرہ کی سہولیات حتیٰ کہ سخت ترین سردی کے ان ایام میں پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضرورتوں سے محروم رکھنے کی پالیسی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک دیدہ دانستہ پالیسی کے تحت یہاں کے عوام کو شدید مشکلات اور مصائب کا شکار بنایا جارہا ہے ۔مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیرمین نے کہا کہ ایک طرف حکومتی سطح پر ظلم وجبر کی انتہا کی جارہی ہے ۔ نوجوانوں کا چن چن کر قتل عام کیا جارہا ہے ۔CASO اور سرچ آپریشن کے نام پر ان شدید سردی کے ایام میں بہانے جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر لوگوں جن میں خواتین، بزرگ اور معصوم بچے شامل ہیں کو گھروں سے باہر نکال کر گھنٹوں ٹھٹھرتی سردی میں یرغمال بنایا گیا اور اس طرح اس منفی درجہ حرارت میں عوام کو اجتماعی سزا سے دوچار کیا گیا اور دوسری طرف انتظامی سطح پر لوگوں کو شدید مشکلات کا شکار بنائے جانے کا عمل جاری ہے ۔ میرواعظ نے سوال کیا کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ یہاں کے عوام، تاجر، ملازم، ٹریڈرس، ہزاروں نہیں بلکہ کروڑوں میں ٹیکس اور بجلی فیس ادا کرتے ہیں اور باوجود اس کے کہ ہماری ریاست آبی وسائل میں سب سے آگے ہے ۔ ہمارے اتنے resources ہیں کہ 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے جو 60 ہزار کروڑ روپے بنتا ہے لیکن اس کا 10 فیصد حصہ بھی explore نہیں کیا جارہا ۔ یہ ہمارے اپنے وسائل ہیں حکومت ہندوستان کا احسان نہیں لیکن اس کے باوجود آہستہ آہستہ ہم کو ان وسائل سے محروم کیا جارہا ہے ۔ NHPC جیسے غیر ریاستی اداروں کو Power Project دیئے جا رہے ہیں، یہاں کی بجلی بھارت کی مختلف ریاستوں کو سپلائی کی جارہی ہے اور یہاں کے عوام کو اس بنیادی ضرورت سے محروم رکھا جارہا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ منفی8 ڈگری درجہ حرارت میں بہت سے علاقوں کو پانی، بجلی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جارہا ہے ، گاؤں اور دیہاتوں کی بات ہی نہیں شہروں کا بھی حال اتنا برا ہے کہ لوگ اس بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی کشمیر سمیت وادی کے متعدد علاقوں میں پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضرورت کا حال برا ہے اور ان علاقوں میں محدود پیمانے پر یہ ضرورتیں فراہم کی جارہی ہیں اوریہ ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کوئی انتظامی مسئلہ ہے یا یہاں کے عوام کو جان بوجھ کر دیدہ دانستہ انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور تحریک نوازی کی سزا دی جارہی ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے وسائل پر قبضہ کیا جارہا ہے ۔ ایک دیدہ دانستہ پالیسی کے تحت کشمیری عوام کو ہر طرح سے تنگ کیا جارہا ہے ۔2019ء شروع ہونے والا ہے لیکن کشمیر میں آج تک بجلی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ اگر یہاں کے عوام باضابطہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور بجلی فیس کے نام پر کروڑوں روپے حکومت کو دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود پانی اور بجلی جو بنیادی ضروریات میں آتا ہے اور جس پر ہر شہری کا حق ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے عوام کو طاقت اور فوج کے بل بوتے پر ہر طرح سے مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ عوام کو فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی آمرانہ پالیسیوں سے بھارت پوری دنیا میں expose ہو رہا ہے ، یہاں کے لوگوں کو دیدہ دانستہ طور ہر طرح کی سہولیات کیلئے ترسایا جارہا ہے ، لوگ مصائب و مشکلات کے شکار ہیں۔ ایک سیاسی پالیسی اختیار کی گئی ہے تاکہ یہاں کے عوام کو جان بوجھ کر مشکلات سے دوچار کیا جائے۔میرواعظ نے کہا کہ اگرچہ ہم حق و انصاف پر مبنی ایک جدوجہد میں مصروف ہیں اور اس جدوجہد کو منطقی انجام تک لیجانے کے وعدہ بند ہیں لیکن جہاں تک لوگوں کے روز مرہ کے مسائل اور مشکلات کا تعلق ہے تو ان سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ۔ یہاں کے لوگوں کو انتظامی سطح پر جس طرح ایک منظم پالیسی کے تحت مفلوک الحال بنانے کا عمل جاری ہے ۔ حکومت مختلف سطحوں پر یہاں کے عوام کو غلام بنائے رکھنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کو زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کیخلاف زندگی کے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو اپنی آواز بلند کرنی چاہئے کیونکہ یہ ہمارا حق ہے اور اس حق کے حصول کیلئے ہم وقتاً فوقتاً اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے ۔اس دوران حریت ترجمان نے رینزی پورہ اونتی پورہ میں ایک عسکری معرکے کے دوران شہید ہوئے عسکری پسند اشفاق احمد وانی کو اسکی شہادت کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہندوستان کی ظلم و جبر سے عبارت پالیسیوں اور یہاں کی نوجوان نسل کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرنے کے نتیجے میں نوجوان نسل عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو رہی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ شہیدوں کی قربانیاں رواں تحریک کا قیمتی اثاثہ ہے اور اس اثاثے کی ہر صورت میں حفاظت کی جائیگی۔

