معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر پر برہمی کا کیا اظہار ،دو گھنٹوں کی علامتی ہڑتال کی
سرینگر::آگ سے متاثرہ دکانداروں کے حق میں معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر کے خلاف شہر خاص کے گوجوارہ علاقے میں بدھ کو دو گھنٹوں کی علامتی ہڑتال کے دوران تاجروں اور دکانداروں نے دھرنا دیکر احتجاجی مظاہرے بھی کئے جس کے نتیجے میں ملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام دیکھنے کو ملا۔
کے ایم این سٹی رپورٹر کے مطابق پائین شہر میںگوجوارہ چوک سے لیکر اسلامیہ کالج تک کے علاقے میں بدھ کو ہر طرح کی کاروباری سرگرمیاں بطور علامتی احتجاج دو گھنٹوں تک معطل رکھی گئیں۔اس دوران دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ علاقے سے گاڑیوں کی آمدورفت بھی ٹھپ ہوکر رہ گئی۔یہ احتجاجی ہڑتال ”شہر خاص ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچررس کارڈی نیشن کمیٹی“ کے بینر تلے منظم کیا گیا جس دوران مقامی تاجروں اور دکانداروں نے دھرنا دیکر احتجاج بھی کیا۔
انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھارکھے تھے جن پر دو ماہ قبل آگ کی واردات میں متاثر ہوئے دکانداروں کو فوری طور سرکار کی طرف سے معاوضہ ادا کرنے کے حق میں نعرے درج تھے۔قابل ذکر ہے کہ دسمبر2017 میں آگ کی ایک ہولناک واردات کے دوران اوقاف کی دو منزلہ عمارت خاکستر ہوئی جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد دکانیں بھی ان میں موجود ہر طرح کے سامان سمیت راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئیں۔احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے حول اور ملحقہ علاقوں میں بری طرح سے ٹریفک جام ہوااور گاڑیوں کو متبادل راستوں سے جانا پڑا۔
کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق اس موقعے پر ”شہر خاص ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچررس کارڈی نیشن کمیٹی“ کے چیرمین نذیر احمدشاہ نے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آگ کی اس واردات میں خاکستر ہوئی عمارت میں درجنوں دکاندار وں کی دکانیں تھیں اور یہ ان کا واحد ذریعہ معاش تھا۔انہوں نے کہا کہ واردات کے بعدحکومت نے متاثرین کو معاوضہ فراہم کرنے کے بڑے بڑے وعدے کئے لیکن عملی طور ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا جس کے باعث متاثرہ دکاندار اپنے روزگار سے محروم ہوگئے ہیں۔
احتجاجی تاجروں نے بتایا کہ اگر ان کے مطالبات فوری طور پورے نہیں کئے گئے، تو وہ اپنے احتجاج میں شدت لانے پر مجبور ہونگے۔ان کا کہنا تھا”ہم سڑکوں پر نہیں آنا چاہتے لیکن انتظامیہ نے ہمارے لئے کوئی اور راستہ نہیں چھوڑا ہے ، ہمارے بچے فاقہ کشی تک پہنچ گئے ہیں“۔کچھ دیر تک احتجاج درج کرنے کے بعد مظاہرین پر امن طور منتشر ہوئے اور علاقے میں کئی گھنٹوں کے بعد کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئیں۔
