شہری وجنگجو ہلاکت :اننت ناگ اور کولگام اضلاع میں مکمل تعزیتی ہڑتال

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر:اننت ناگ اور کولگام اضلاع میں مکمل تعزیتی ہڑتال کے بیچ کوکرناگ جھڑپ میں جا ں بحق ہوئے کھڈونی کے جنگجوکی تجہیز و تکفین میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جس کے بعد کئی علاقوں میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپیں ہوئیں۔کشیدہ صورتحال کے باعث دونوں اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ سروس دوسرے روز بھی معطل رہی۔

لارنو کوکرناگ کے پہلی پورہ نامی گاﺅں میں گزشتہ روز فورسز کے ساتھ تصادم آرائی کے دوران فرہان احمد وانی ولد غلام احمدساکن ریڈونی کھڈونی کولگام نامی جنگجو جاں بحق ہوا جس کا تعلق حزب المجاہدین کے ساتھ تھا۔جنگجو کی ہلاکت پر بدھ کو اننت ناگ اور کولگام اضلاع کے بیشتر علاقوں میں تعزیتی ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔دکانیں، کاروباری ادارے اور دفاتر وغیرہ مکمل طور بند جبکہ گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔

نمائندے نے بتایا کہ بدھ کی صبح فرہان کی میت جلوس کی صورت میں اسکے آبائی گاﺅں ریڈونی کھڈونی پہنچائی گئی جس کے فوراً بعد مختلف علاقوں سے لوگوں کی بھاری تعداد وہاں پہنچی۔دوران شب ہی پولیس اورفوج نے لوگوں کوکھڈونی پہنچنے سے روکنے کےلئے پورے علاقے کو سخت محاصرے میں لیا اور وہاں کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کردئے لیکن اس کے باوجود مساجد کے لاﺅڈ اسپیکروں پر انقلابی ترانوں اور اسلام و آزادی کے حق میں زوردار نعروں کی گونج کے بیچ لوگوں کی آمد کا سلسلہ صبح سویرے سے ہی جاری رہا۔

فرہان کی تجہیز و تکفین میںمزاحتمی لیڈران ، کارکنوں، خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں لوگ شریک ہوئے ۔اسے اسلام و آزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کے بیچ سپرد لحد کردیا گیا۔اس موقعے پر لوگوں کے جم غفیر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی نماز جنازہ کئی بار ادا کی گئی۔نماز جنازہ کی پیشوائی جنگجو کے والد غلام احمد وانی نے کی ۔

فرہان کی نماز جنازہ اور تدفین کے بعد نوجوانوں کی ٹولیاں کھڈونی کے مختلف مقامات پر سڑکوں پر آئیں اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔پولیس اور نیم فوجی دستوں نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تو نوجوانوں نے مزاحمت کرتے ہوئے فورسز پر شدید پتھراﺅ کیا اور طرفین کے مابین باضابطہ جھڑپیں شروع ہوئیں۔ فورسز نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کےلئے اشک آور گیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں وہاں اتھل پتھل اور خوف و ہراس پھیل گیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران مظاہرین پر پاوا شیلنگ بھی کی گئی ۔

اگر چہ امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے حساس علاقوں میں فورسز کی بھاری تعداد تعینات کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود کئی جگہوں پر پر تشدد احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور مظاہرین کی پولیس کے ساتھ شدید نوعیت کی جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے پورا دن جاری رہا۔صورتحال پرقابو پانے کےلئے پولیس اور سی آر پی ایف کے مزید دستے طلب کئے گئے ، تاہم حالات انتہائی کشیدہ رہے ۔

ادھرجنگجو کی ہلاکت کے تناظر میںمنگل کی دوپہر حکام نے اننت ناگ اور کولگام اضلاع کے بیشتر علاقوں میں احتیاط کے بطورموبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل رکھنے کی مواصلاتی کمپنیوں کو ہدایت دی جس پر عمل کرتے ہوئے انٹرنیٹ سروس بند رکھی گئی اور یہ سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا۔ پولیس نے بتایا کہ یہ اقدام بے بنیاد افواہ بازی سے بچنے کےلئے اٹھایا گیا۔کے ایم این

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے