جموں، 29جنوری (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں فوج کے ہاتھوں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعہ کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کو مقررہ مدت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوج ایک ادارہ ہے اور ایف آئی آر کی اندراج سے اس کا حوصلہ پست نہیں ہوگا۔ ان نے کہا کہ ہر ادارے میں کچھ کالی بھیڑیں ہوتی ہیں۔ محترمہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار پیر کو یہاں قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شوپیان ہلاکتوں پر پیش کی گئی تحریک التوا پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران مرکز میں ڈاکٹر من موہن سنگھ کی قیادت والی دس سالہ یو پی اے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایااور این ڈی اے حکومتوں کی جم کر تعریف کی۔ تاہم انہیں اپنی تقریرکے دوران اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس بالخصوص اپوزیشن قائد عمر عبداللہ کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میرا جنم کانگریس میں ہوا ہے اور میرے والد مرحوم مفتی محمد سعید ایک ایسے کانگریسی اور ہندوستانی تھے جنہوں نے کانگریس کو ریاست میں بنایا ہے۔ واضح رہے کہ فوجی اہلکاروں نے 27 جنوری کو گنوپورہ شوپیان میں احتجاجی نوجوانوں پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول کر دو جواں سال نوجوانوں کو ہلاک جبکہ 9 دیگر کو زخمی کردیا۔ مہلوک نوجوانوں جاوید احمد بٹ اور سہیل جاوید لون کی عمر 20 سے 25 برس کے درمیان تھی۔ محترمہ مفتی نے شوپیان کے واقعہ کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ’ضلع شوپیان میں بہت ہی بدقسمت واقعہ رونما ہوا ہے۔ اس پر صرف ہم کو نہیں بلکہ پورے ریاست کو صدمہ ہے۔ ہمارے دو لڑکے جاں بحق ہوگئے ہیں اور تیسرے کی حالت اسپتال میں تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ جب کبھی اس قسم کا سانحہ ہوتا ہے تو بحیثیت وزیر اعلیٰ، یونیفائیڈ ہیدکوارٹرس چیف اور وزیر داخلہ ہمیں جواب دینا پڑتا ہے۔ پچھلے تیس برس سے ہم اس صورتحال کو برداشت کررہے ہیں۔ کبھی حالات ٹھیک ہوجاتے اور بیچ میں پھر ماحول خراب ہوجاتا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’روز کوئی نہ کوئی بدقسمت واقعہ پیش آتا ہے۔ نہیں پیش آنا چاہیے۔ ہم سیکورٹی فورسز سے کہتے ہیں کہ وہ صبر وتحمل سے کام لیں۔ ایک وقت وہ تھا کہ جب کسی گاو ¿ں میں مسلح تصادم شروع ہوتا تھا تو پورا گاو ¿ں خالی ہوجاتا تھا۔ ڈر ہوتا تھا۔ کبھی فرضی مسلح تصادم کا شک ہوتا ہے تو بھی لوگ وہاں نہیں جاتے تھے۔ آج جب مسلح تصادم ہوتا ہے تو سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مسلح تصادم کے مقام پر پہنچ جاتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’ میں نے سیکورٹی فورسز سے بار ہا کہا ہے کہ وہ صبر وتحمل سے کام لیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر گولی چلانے کی ضرورت پڑے تو وہ ہوا میں چلائیں۔ لیکن یہ شوپیان میں جو سانحہ پیش آیا، وہ بہت ہی افسوسناک ہے‘۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تحقیقات کو مقررہ مدت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’میں نے اسی وقت وزیر دفاع سے بات کی۔ ان کا مثبت ردعمل تھا۔ ہم نے اسی وقت ایف آئی درج کی اور مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا۔ ہم پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی افورڈ نہیں کرسکتے ہیں۔ فوج ایک ادارہ ہے۔ آرمی نے اپنا کام بہت اچھے طریقے سے کیا۔ ہر جگہ کچھ بھیڑیں ہوتی ہیں۔ کوئی غلطی کرتا ہے اس کو سزا ملنی چاہیے۔ اگر ایف آئی آر درج ہوئی ہے تو اس کو منطقی انجام تک لے جانا اس سرکار کا کام ہے‘۔ محترمہ مفتی نے جموں وکشمیر کو مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کو حل کرنے میں سب سے زیادہ دلچسپی صرف بی جے پی نے لی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’یہاں سب لوگوں نے مسئلے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ ہے اور وہ اسے حل کیوں نہیں کرتے ہیں۔ مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھنے کا بی جے پی کے وزرائے اعظموں کا بہت اچھا رول رہا ہے۔ بی جے پی کو چھوڑ کر صرف ایک وزیراعظم نے بات چیت کی بات کی تھی اور وہ اندر کمار گجرال صاحب تھے۔ انہوں نے 1996 میں قاضی گنڈ میں منعقدہ ایک میٹنگ میں کہا کہ وہ جموں وکشمیر کے تمام علیحدگی پسندوں سے بلامشروط بات چیت کے لئے ہیں۔ میں نے ان سے ملاقات کی اور اس بات کے لئے مبارکباد پیش کی۔ میں نے ان سے کہا کہ بات چیت ہونی چاہیے کیونکہ یہاں بہت خون خرابہ ہے۔ اگر کسی مسئلے کا حل ہے تو وہ بات چیت میں ہے۔ اس کے بغیر کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ جہاں کہیں بھی کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو بات چیت کے ذریعے اسے حل کرنے کی کوششیں ہوتی تھیں۔ شمالی کوریا اس وقت امریکہ کو بڑے پیمانے پر اشتعال دلا رہا ہے۔ اس کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ بار بار کہتا ہے کہ میں بات چیت کے لئے تیار ہوں‘۔ محبوبہ مفتی نے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا نام لئے بغیر کہا ’اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر جموں وکشمیر میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کی گئی تو میں انڈیا کے خلاف بغاوت کی علم بلند کرنے والا پہلا شخص ہوں گا۔ وزیر اعظم کو اپنا بیان بدلنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بات چیت کرنے کی بات نہیں کہی بلکہ میں ایسی اردو بول گیا جس کا لوگوں نے دوسرا مطلب نکالا‘۔ انہوں نے کہا ’میرے کہنے کا مقصد ہے کہ اگر یہاں کسی پارٹی نے بات چیت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کیں تو وہ بی جے پی ہے۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے بات چیت کی شروعات کی جس سے ہم سب آگاہ ہیں۔ وہ بس کے ذریعے لاہور گئے۔ وہاں مینار پاکستان بھی گئے۔ ایک بہت اچھا ماحول بنایا۔ لیکن یہ ہماری ریاست کی بدقسمتی ہے۔ باقی ہندوستان اور پاکستان آپس میں لڑتے رہیں گے۔ ایک دوسرے کو مارتے رہیں گے۔ فوجی یہاں اور وہاں بھی مرتے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان اگر کسی کا ہوتا ہے تو وہ ہمارا ہوتا ہے۔ اس کے بعد کرگل کی جنگ ہوئی۔ ساری محنت پر پانی پھر گیا۔ ہم پھر زیرو پر آگئے۔ اس کے بعد اسی اٹل بہاری واجپائی نے جنرل پرویز مشرف کو انڈیا آنے کی دعوت دی۔ آگرہ میں بات چیت ہوئی لیکن آگے نہ بڑھ سکی۔ اس کے بعد پارلیمنٹ پر حملے کا بدقسمت واقعہ پیش آیا۔ سرحدوں پر جنگ جیسی صورتحال بن گئی‘۔ انہوں نے کہا ’مجھے خوشی ہے کہ اس ماحول کو بھی واجپائی جی نے بہت اچھے طریقے سے سنبھالا۔ مجھے یاد ہے کہ جب فوجیوں کو واپس بلایا گیا تواس وقت کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ دھوتی والے کیا کریں گے۔ یہ فوجی گولیاں چلائے بغیر واپس کیوں آگئے‘۔ محبوبہ مفتی نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی وکالت کرتے ہوئے کہا ’ہم نے ہر بار کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے۔ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ پاکستان پر بمباری کرو۔ وہاں موجود کیمپ اڑا دو اور مسئلہ حل ہوگا۔ مجھے اس پر خوشی ہے کہ سب کا یہی کہنا ہے کہ بندوق سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ مجھے خوشی ہے کہ ایوان میں آج اتفائے رائے پیدا ہورہا ہے۔ پاکستان اور جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت پر زور دیا جارہا ہے‘۔ انہوں نے اٹل بہاری واجپائی کے دور پر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’اس کے بعد ہماری سرحدوں پر جنگ بندی ہوئی۔ بات چیت کا ایک راو ¿نڈ ہوا جس میں گیلانی صاحب کے بغیر ہمارے تمام علیحدگی پسند قائدین نے بات چیت کی۔ ایل کے ایڈوانی جو اس وقت نائب وزیر اعظم تھے، کے ساتھ بات چیت ہوئی۔ بدقسمتی سے اس بات چیت کو بعد میں آگے نہیں بڑھایا گیا‘۔ وزیر اعلیٰ نے سابقہ یو پی اے دور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ’میرا جنم کانگریس میں ہوا ہے۔ مفتی سعید کانگریسی اور ہندوستانی تھے۔ انہوں نے یہاں کانگریس کو بنایا ہے۔ انہوں نے مشکل حالات میں یہاں کانگریس کا ساتھ دیا ہے۔ اس وقت سوشل بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دس سال یہاں یو پی اے کی حکومت رہی لیکن جو واجپائی جی نے سیاسی عمل شروع کیا تھا ، اس کو آگے نہیں بڑھایا گیا۔ ورکنگ کمیٹی رپورٹوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ ہم سب نے مل کر بہت محنت کی لیکن یو پی اے کی جو حکومت دس سال تک رہی، اس نے کوئی پیش رفت نہیں کی‘۔ تاہم وزیر اعلیٰ کے اس بیان پر ایوان میں موجود کانگریسی اراکین نے شدید احتجاج کیا۔ کانگریسی اراکین کے احتجاج کے جواب میں محترمہ مفتی نے کہا ’ہم تو خاموش ہوکرآپ کی باتیں سن رہے تھے۔ لیکن پتہ نہیں کہ کیوں یہ اتنا غصہ ہورہے ہو‘۔ وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی موجودہ مرکزی سرکار کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’اس کے بعد مودی جی کی سرکار آئی۔ جموں میں ان کو اور کشمیر میں ہمیں اکثریت ملی۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے مخلوط حکومت بنائی۔ جموں کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں کشمیری نظر آرہے ہیں۔ مجھے کسی نے بتایا کہ باجی جب میں یہاں آتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں آزاد ہوگیا ہوں۔ ہر ایک مذہب کے لوگوں بغیر کسی پریشانی کے سڑکوں پر گھوم رہے ہیں۔ اگر ہم یہ کہتے ہوئے جموں کے منڈیٹ کو مسترد کرتے کہ یہ بی جے پی ہے اور ہمارے لئے اچھوت ہے تو کیا یہ صحیح ہوتا؟ ہمارے لیڈر آف اپوزیشن (عمر عبداللہ) خود واجپائی جی کی قیادت والی حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’ہم نے ایجنڈا آف الائنس بنایا۔ بار بار کہا جاتا ہے کہ ایجنڈا آف الائنس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ کونسا وزیر اعظم ہیں جو بغیر دعوت کے پاکستان گیا۔ اس کے بعد پٹھان کوٹ اور اوڑی حملے ہوئے‘۔ وزیر اعلیٰ نے سنگبازوں کو دی گئی عام معافی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’وہ نوجوان جو 2008 سے لیکر 2017 تک پتھربازی میں ملوث رہ چکے ہیں اور جن کا کیریئر برباد ہوچکا تھا، کو ہم ایمنسٹی دے رہے ہیں۔ جن پر 2010 میں منشیات کے عادی، دہشت گرد اور اسمگلر ہونے کے لیبل لگائے گئے، ہم نے تو ایسا نہیں کہا۔ ہم نے کہا یہ ہمارے بچے ہیں۔ ہم نے کہا کہ اگر ان نوجوانوں نے غلطی کی ہے تو ان کو دوسرا چانس دیا جانا چاہیے۔ بچے جاں بحق ہورہے ہیں، وہ ہمارے بچے ہیں۔ وہ کوئی باہر سے آئے ہوئے نہیں ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ میری ذمہ داری زیادہ بنتی ہے۔ ایک بار عمر صاحب نے کہا تھا کہ بنکر پر پتھراو ¿ کرنا خودکشی کرنے کے مترادف ہے‘۔ یو این آئی

