سوپور:نوجوان تاجر کے قتل کے خلاف ہڑتال

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر:شمالی قصبہ سوپور میں اُس جواں سال سونار کے قتل کے خلاف بدھ کو مکمل ہڑتال کی گئی جس کی لاش قتل کے 35 روز بعد برآمد کی گئی ۔مقتول کی نماز جنازہ سوپور میں ادا کرنے کے بعد ا س کی میت اس کے آبائی علاقہ کلاروس کپوارہ پہنچائی گئی جہاں اسے اشکبار آنکھوں سے سپرد لحد کردیا گیا اور اس کی تجہیز و تکفین میں لوگوں کی بھاری تعداد شریک ہوئی۔

32سالہ طارق احمد ملک ولد غلام رسول ساکن کلاروس کپوارہ گزشتہ20برس سے سوپور کے چھوٹا بازار میں ”کیرٹ لائن گولڈ شاپ “کے نام سے سونے کے زیورات کا کاروبار کرتا تھا۔ 26دسمبر2017کی شام ساڑھے7بجے کے قریب طارق معمول کے مطابق دکان بند کرکے وہاں سے چلا گیا اور رات دیر گئے تک گھر نہیں پہنچا۔ طارق کے گھروالوں کے دوران شب اس کے لاپتہ ہونے کی اطلاع پولیس کو دی اور پولیس نے اس سلسلے میں خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) تشکیل دی۔ معاملے کی نسبت ایف آئی آر زیر نمبر09/2018زیر دفعہ364آر پی سی درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی۔

چھان بین کے ابتدائی مرحلے میں ہی کچھ اہم سراغ پولیس کے ساتھ لگے اور پولیس کی تفتیشی ٹیم طارق احمد کو پہلے اغوا اور بعد میں قتل کرنے والوں کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوگئی۔پولیس نے اس سلسلے میں4افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جن کے نام محمد سجاد لرہ و عادل احمد لرہ پسران محمد افضل ساکنان مسلم پیر سوپور ، غلام محمد لرہ ولد غلام قادر اور نعیم احمد لرہ ولد غلام محمد ساکنان عشپیر سوپور ہیں ۔پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی یہ واردات مقتول کی دکان سے سونے کے زیورات اور نقدی لوٹ لینے کے مقصد سے انجام دی گئی جس دوران گرفتار شدگان نے26دسمبرکی شام طارق احمد کو زبردستی اپنی گاڑی میں سوار کیا اور بعد میں اسے ایک سنسان جگہ پر لیجاکر گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔

پولیس کے مطابق سوپور کے بائی پاس پل سے طارق کی لاش دریاءمیں پھینکنے سے قبل اس کی دکان کی چابیاں چھین لی گئی تھیں اور قتل کے بعد چاروں ملزمان نے طارق کی چابیوں سے ہی دکان کھول کر نقد رقم اور سونے کے زیورات کی بھاری مقدار لوٹ لی۔پولیس نے ان کی تحویل سے سونا اور نقدی برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیالیکن مسلسل تلاش کے باوجود اس کی لاش نہیں ملی۔

طارق احمد کی لاش قتل کے35روز بعد منگل کو برآمد کی گئی جس کے نتیجے میں قصبے میں صف ماتم بچھ گئی۔اسی دوران ٹریڈرس فیڈریشن سوپور نے مقتول کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے بطور بدھ کو ہڑتال کی کال دی تھی جس کی بار ایسو سی ایشن سوپور، فروٹ گرورس اینڈ ڈیلرس ایسو سی ایشن فروٹ منڈی سوپور اور صنعتی انجمنوں نے بھی حمایت کی۔

ہڑتالی کال کے نتیجے میں تاجروں اور دکانداروں نے احتجاج کے بطور اپنا کاروبار معطل رکھا،قصبے کے تمام بازاروں میں دکانیں، کاروباری ادارے اور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدورفت بھی بری طرح سے متاثر رہی۔طارق احمد کی نماز جنازہ بعد دوپہر دو بجے اقبال مارکیٹ میں انجام دی گئی جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔بعد میں اس کی میت اس کے آبائی گاﺅں کلاروس کپوارہ پہنچائی گئی اور یہاں بھی اس کی نماز جنازہ میں لوگوں کی بھاری تعداد شریک ہوئی جس کے بعد اسے آبائی مقبرے میں پر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے