اس سے پہلے سپریم کورٹ نے ہی اپنے فیصلے کے تحت سنیما گھروں میں فلم دکھائے جانے سے پہلے قومی ترانہ بجانا لازمی قرار دیا تھا۔
مرکزی حکومت نےبھارتی سپریم کورٹ میں داخل کر دہ اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجانے کو فی الحال لازمی قرار نہ دیا جائے ۔
بھارتی حکومت نے سنیما گھروں میں بجائے جانے والے قومی ترانے کے تعلق سے سپریم کورٹ کو وضاحت دیتے ہوئے اپنے حلف نامےمیں کہا کہ فی الحال سنیما گھروں میں قومی ترانہ کو لازمی قرار نہ دیا جائے۔ حکومت وزرا کی ایک کمیٹی تشکیل دے رہی ہےجو چھ ماہ میں اپنی رپوٹ پیش کرے گی ، اس کے بعد حکومت یہ طئے کرے گی کہ اس ضمن میں سرکولر جاری کیا جائےیا نہیں۔مرکزی حکومت نے کہا تب تک سنیما گھروں میں 30 نومبر 2016 سے قبل کی صورتحال بحال کی جائے۔
منگل کے روز سپریم کورٹ میں اس پر سنوائیکی جائے گی۔
واضح رہے کہ 23 اکتوبر 2017 کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے سنیما گھروں اور دیگر جگہوں پر قومی ترانے کے بجائے جانے کو لازمی قرار دیے جانے پر مرکزی حکومت سے اپنا موقف واضح کر نے کو کہا تھا۔
جسٹس چبد چور نے کہا تھا کہ لوگ تفریح کے لیے سنیما بینی کرتے ہیں ایسے میں وہ کیوں حب الوطنی کو اپنے بغل میں لیے پھرتے رہیں۔
سنیما گھروں میں قومی ترانے پر کھڑے ہونے کو لازمی قرار دینے کے لیے فلیگ کوڈ کافی نہیں ہے۔ حکومت کو اس ضمن میں ایکزیکیٹو حکمانامہ جاری کر نا چاہیے، عدالت کیوں اس کی ذمہ داری لے؟
بہت سے لوگ شارٹس لباس میں سنیما ہال جاتے ہیں ایسے میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ قومی ترانے کا احترام نہیں کر رہا ہے۔
آپ یہ کیوں مانتے ہیں کہ جو قومی ترانےکے احترام میں کھڑا نہیں ہو تا وہ حب الوطن نہیں ہے؟
واضح رہے کہ 30 نومبر 2016 کو قومی ترانہ یعنی ‘جن گن من۔۔’ سے وابستہ ایک اہم فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ’ ملک کت تمام سنیما گھروں میں فلم شروع ہو نے سے قبل قومی ترانہ بجا یا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے اپنے اس حکمنامے میں یہ بھی کہا تھا کہ قومی ترانا بجاتےوقت سنیما اسکرین پر قومی جھنڈا بھی دکھا یا جائے گا اور لوگوں کو اس کے احترام میں کھڑا بھی ہونا ہو گا۔

