سانحہ کپوارہ کی 24ویں برسی پرقصبہ میں ہڑتال

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/27جنوری ؍؍سانحہ کپوارہ کی 24ویں برسی کے سلسلے مزاحمتی لیڈران کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظر ضلع میں مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی جبکہ مقامی مساجد اور قبرستانوں میں شہدائے کپوارہ کے حق میں دعائے مغفرت کی گئی ۔ اس دوران مزاحمتی لیڈران نے قصبہ کپوارہ کے لوگوں کا شہداء کی یاد میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کرنے پر شکریہ ادا کیا گیا ۔ کے این ایس کے مطابق کپوارہ میں 1994میں فوج کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں3پولیس اہلکاروں سمیت 27افراد کی ہلاکت کے خلاف مزاحمتی لیڈران کی طرف سے دی گئی ہڑتا ل کال کے نتیجے میں ضلع بھرمیں مکمل ہڑتا ل رہی اور اس دوران دکان ، کاروباری ادارے ، تجارتی مراکز اور نجی ادارے مکمل طور پر بند رہے جس کی وجہ سے عام زندگی پٹری سے نیچے اُتر گئی ۔ ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت بھی معطل رہی جبکہ کپوارہ ، ترہگام اور کرالپورہ میں ہڑتال کی کال کا سب سے زیادہ اثر دیکھنے کو ملا ۔ شہدائے کپوارہ کی 24ویں برسی کے سلسلے میں اس سانحہ میں جاں بحق ہوئے لوگوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے مقامی مساجدوں میں دعاوں اور فاتحہ خوانی کی تقاریب بھی منعقد ہوئی جس کے دوران 27جنوری 1994کو جاں بحق ہوئے افراد کو پر نم آنکھوں سے یاد یا گیا ۔ نمائندے کے مطابق اس سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین اور رشتہ داروں نے مقامی قبرستانوں میں جاکر اپنے لخت جگروں کو یاد کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کی جبکہ اس موقعہ پر رقعت آمیز مناظر بھی دیکھنے کو ملے ۔ ہڑتال کال اور سانحہ کپوارہ کی24ویں برسی کے پیش نظر ضلع بھر میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے جبکہ فورسز اور پولیس اہلکاورں کو سڑکوں اور حساس جگہوں پر تعینات کیا گیا تھا تاکہ کسی بھی طرح کی صورتحال سے مقابلہ کرنے کیلئے وہ تیاری کی حالت میں رہے تاہم دن بھر ضلع بھر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی بھی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔اس وقت لوگوں نے میڈیا اور تحقیقاتی اداروں کو کہا تھاکہ 1994میں ایک فوجی افسر نے دکانداروں سے کہا کہ وہ یوم جمہورہ کی تقریب میں شر کت کے لئے فوجی کیمپ میں آئیں لیکن دکانداروں نے فوجی افسر کی بات نہ مانی اور یوم جمہوریہ کی تقریب میں شر کت نہیں کی۔واقع کو یاد کر تے ہو ئے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس کے دوسرے دن جب دکانداراپنی دکانیں کھولنے میں مصروف تھے کہ اس دوران ٹرکوں میں آکرفوجی اہلکار بازار میں نمودار ہو ئے اور انہوں نے دکانداروں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 27افراد جاں بحق ہو ئے ۔واضح رہے کہ حکومت نے کپوارہ قتل عام کی نسبت تحقیقات کو بند کر کے یہ کہا کہ فوج کے عدم تعاون کی وجہ سے تحقیقات کو آگے نہیں بڑھایا جا سکا۔اور لوگ آج بھی اس قتل عام میں ملوث اہلکاروں کو سزا دینے کی مانگ کر رہے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے