ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے پلوامہ ہلاکتوں کو ناقابل برداشت قرار دیا

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

ریاستی حکومت ، پولیس چیف ، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی پلوامہ کے نام نوٹسیں جاری

سرینگر؍17دسمبر: ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے پلوامہ میں شہری ہلاکتوں کے سلسلے میں انتظامیہ کو مفصل رپورٹ پیش کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ جے کے این ایس کے مطابق سماجی لیڈر احسن انتو کی جانب سے ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں پٹیشن دائر کی گئی جس میں بتایا گیا کہ سیکورٹی فورسز نے سرنو پلوامہ میں نہتے شہریوں پر بندوقوں کے دہانے کھولے جس میں سات عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ سٹیٹ ہیومن رائٹس کے کمیشن نے کمشنر سیکریٹری ہوم ، پولیس چیف ، ڈپٹی کمشنر پلوامہ اور ایس ایس پی پلوامہ کو اس سلسلے میں کمیشن میں مفصل رپورٹ پیش کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ درخواست گذار نے کمیشن کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے سرنو پلوامہ میں نہتے شہریوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سات عام شہری قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہاکہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے شہریوں پر ٹارگیٹ فائر کیا کیونکہ جو کوئی بھی زخمی یا ہلاک ہوا اُس کے نازک حصوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مقامی لوگوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جھڑپ کے دوران کوئی پتھراو نہیں ہوا تاہم فورسز اہلکاروں نے کھیتوں میں کام کرنے والے افراد پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے سات عام شہری جن کا پتھراو کے ساتھ دور کا بھی واسط نہیں جاں بحق ہوئے۔ درخواست گزار نے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Share This Article