وادی شدید سردی کی لپیٹ میں ، لیہہ اور کرگل میں رات کا درجہ حرارت منفی 16 ڈگری عبورکر گیا
سرینگر/17دسمبر: وادی کشمیر میں شدید سردی کی لہر جاری ہے اور صوبائی لیہہ اور کرگل میں رات کا درجہ حرارت منفی 16ڈگری عبور کر گیا ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ریاست خاص کر وادی کشمیر اور صوبائی علاقے لہہہ اور کرگل میں سردی کی شدید لہر نےپوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور یخ بستہ ہوائوں کی وجہ سے شدید سردی کی لہر جاری ہے ۔۔ محکمہ موسمیات کے حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ شب سرینگر شہر میں سرد ترین رات رہی کیونکہ درجہ حرارت منفی4.8ڈ گری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا ۔ محکمہ کے مطابق درجہ حرارت میں کمی ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی سخت ترین سردی کے لپیٹ میں آچکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے ساتھ ساتھ لداخ خطہ بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے ۔ ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ شب لیہہ میں درجہ حرارت منفی 16.1ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا ۔ ترجمان کے مطابق جموں خطہ میں بھی درجہ حرارت میں کافی گرائوٹ آئی ہے ۔۔ سرد ہوائوں نے ہر چیز کو منجمد کرکے رکھ دیا ہے۔درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے جھیلیں اور ندی نالے جم گئے جبکہ جمے ہوئے تالاب پر بچوں نے اپنا رنگ جمالیا اور سردی کی شدت سے بے پروا لگے کرنے تفریح اور ڈانس۔ سردی کی شدید لہر کے بعد اونی لباس اور گرم ملبوسات کی طلب بڑھ گئی ہے۔ شدید ترین سردی کی وجہ سے مارکیٹوں اور بازاروں میں شہری آگ جلا کر سردی کے اثرات کو کم کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ سردی بڑھتے ہی گیس اور لکڑی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ لداخ اور لہیہ میں شدید سردی اور ناکافی سہولیات نے شہریوں کے معمولات زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں موسم میں تبدیلی آنے کے امکانات نہیں ہے اور آنے والے دنوں میں موسم خوشک رہنے کا امکان ہے ۔ ادھر شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں سخت ترین ٹھنڈ جاری رہی اور دن کے وقت بھی لوگوں کو آنے جانے میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ رات کے وقت سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کے بعد لوگ اضافی بسترے ، کمبل ، گرم ملبوسات اور روم ہیٹر و واٹر بوتل جیسی چیزیں خریدنے پر مجبور ہورہے ہیں اور متعلقہ دکاندار لوگوں کی مجبوری یا ضرورت کا خوب فائدہ اٹھارہے ہیں اور انہوں نے یکایک ان سبھی چیزوں کی قیمتوں میں من مانے طور اضافہ کر دیا ہے ۔

