جنوبی کشمیر میں قبرستانوں کی بے حرمتی قابلِ مسجد ،عالمی برادری نوٹس لیں
سری نگر:۳۱،مئی:/ جماعت اسلامی جموں وکشمیر‘ جنوبی کشمیر کے گنڈبگ کاکہ پورہ علاقہ میں بھارتی فوج کی طرف سے دوران شب کئی رہائشی مکانوں کو آگ لگانے کی کوشش کرنے جیسی کارروائیوں کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور انسانی حقوق کی کے جملہ اداروں پر زور دیتی ہے کہ وہ ریاست میں جاری ابتر صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف مؤثر اور منظم کارروائی کرکے اپنی منصبی ذمہ داری ادا کریں۔ ایڈوکیٹ زاہد علی ترجمان اعلیٰ جماعت اسلامی جموں وکشمیر کی جانب سے موصولہ بیان کے مطابق بھارتی فوجیوں کی ایک جمعیت نے دوران شب گنڈبگ کاکہ پورہ پلوامہ کی بستی میں داخل ہوکر کئی رہائشی مکانات کواُس وقت خاکستر کرنے کی مذموم کوشش کی جب بستی کے باشندے گہری نیند میں تھے۔بھارتی فورسز کی طرف سے ایسی کارروائی ایک گہرا منصوبہ معلوم ہوتا ہے جس میں رہائشی مکانات سمیت عام لوگوں کی جانوں کو بھی زک پہنچانے کا ارادہ تھا۔ اس سے کچھ روز قبل ہی سوگن شوپیان کی بستی میں فورسز نے قہر ڈھاکر کئی مکانات کو نقصان پہنچایااوردرجنوں میوہ درختوں کو کاٹ کر عام لوگوں کو ذہنی کوفت میں مبتلا کردیا۔اس طرح فورسز نے وادی بھر میں ظلم و جبر کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے جس سے عام لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ مزید برآں لاتعداد نوجوانوں کو بے جا الزامات کے تحت گرفتار کرکے مختلف جیلوں، ٹارچر سنٹروں اور پولیس تھانوں میں بے بنیاد الزامات کے تحت مقید کردیا گیاہے۔ اگر چہ ان میں سے ایک بڑی تعداد نے کورٹ سے اپنی رہائی کے حق میں احکامات بھی حاصل کرلیے ہیں لیکن قانون کے نام نہاد رکھوالوں اورانسانی حقوق کے تحفظ کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ان عدالتی احکامات کو خاطرمیں نہ لاتے ہوئے ایسے احکامات کی دھجیاں اُڑادیتے ہیں۔وادی کے مختلف پولیس تھانوں میں ایسے بے شمار معصوم اور بے گناہ نوجوان کسمپرسی کی حالت میں ہیں جہاں اُن کو ذہنی اور جسمانی ٹارچر کرکے اذیت ناک مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ پولیس افسران ایسے نوجوانوں کی رہائی کو طول دینے کی خاطر بے بنیاد الزامات میں ملوث دکھاکر اُن کے مستقبل پر کاری ضرب لگاتی ہے اور انہیں پشت بہ دیوار کرنے کا موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ادھر دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اپنے دو ساتھیوں سمیت زنانہ پولیس تھانہ رام باغ میں مقید ہے اگر چہ انہوں نے بھی عدالت سے رہائی کا پروانہ حاصل کیا ہے لیکن پولیس ادھر بھی عدالتی احکامات کو پایہ حقارت سے ٹھکراکر انسانی حقوق کی دھجیاں اُڑارہی ہے۔اس دوران امیر تحصیل بجبہاڑہ گلزار احمد بٹ ساکن اُرن ہال اپنے فرزند سمیت پولیس تھانہ سنگم میں مقید ہے جہاں پولیس نے انہیں کئی بے بنیاد کیسوں میں ملوث دکھا کر اُن کی رہائی کو ناممکن بناکے رکھ دیا ہے۔ موصوف کے خلاف لگائے گئے جملہ الزامات بے بنیاد ہے جو سراسر انتقام گیرانہ کارروائی ہے۔ جماعت اسلامی‘ جنوبی کشمیر میں گزشتہ دنوں بھارتی فوج کی جانب سے قبروں کی بے حرمتی کرنے پر اپنی گہری ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی اصولوں اور مہذب قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ وادی میں درحقیقت قانون کی پاسداری نہیں کی جاتی ہے بلکہ یہاں پولیس افسران کی جاری کردہ ہدایات ہی قانون کی حیثیت رکھتی ہے جو کہ سراسر انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر وادی میں جاری بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے جملہ اداروں پر زور دیتی ہے کہ وہ یہاں ابتر صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کڑی کارروائی کریں۔نیز جماعت ماہ رمضان کے دوران تمام سیاسی نظربندوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔

