دہلی دھماکہ کیس: این آئی اے نے ایک اور کلیدی ملزم کو گرفتار کیا، مزید تحقیقات جاری

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سری نگر،18 دسمبر

قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) نے دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب کارہوئے کار دھماکے کے سلسلے میں ایک اہم ملزم یاسر احمد ڈار کو گرفتار کر کے تحقیقات میں اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ گرفتار شدہ ملزم یاسر احمد ڈار ضلع شوپیان کا رہائشی ہے۔ این آئی اے نے اسے نئی دہلی سے گرفتار کیا ہے۔
این آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق یاسر احمد ڈار دھماکے کی سازش میں براہِ راست شامل تھا اور خودکش کارروائی کے لیے حلف بھی اٹھا چکا تھا۔ تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یاسر نے دیگر مرکزی ملزمان، بشمول عمرالنبی (جو دھماکے کا ذمہ دار تھا اور ہلاک ہو گیا) اور مفتی عرفان، کے ساتھ قریبی رابطہ رکھ کر سازش میں حصہ لیا۔
تحقیقاتی ایجنسی نے بتایا کہ مرکزی اور ریاستی اداروں کے تعاون سے دھماکے کی پوری سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں جموں و کشمیر اور اتر پردیش میں متعدد مشتبہ افراد کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے اور ڈیجیٹل آلات و دیگر شواہد ضبط کیے گئے۔ اس سے قبل فرید آباد، ہریانہ میں ا لفلاح یونیورسٹی کمپلیکس اور دیگر مقامات پر مرکزی ملزمان ڈاکٹر مزمل شکیل گنائی اور ڈاکٹر شاہین سعید کے ٹھکانوں پر بھی کارروائیاں کی گئی تھیں۔
این آئی اے نے کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران دھماکے کے پیچھے موجود نیٹ ورک، رابطوں اور فنڈنگ چینلز کا مکمل سراغ لگایا جائے گا تاکہ تمام ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہو سکے۔

Share This Article