خاشقجی قتل معاملہ: سعودی عرب کے ولی عہد اب بیرون ممالک میں اپنی شبیہ بہتر بنانے کی کوشش میں

By
1 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان مغربی ایشیا میں اپنے قریبی اتحادی ملکوں کے دورہ پر ہیں۔ اس کے بعد وہ 30 نومبر کو ارجنٹائنا میں جی 20 سربراہی اجلاس میں حصہ لیں گے، جہاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، یورپی ممالک کے رہنماوں اور ترکی کے صدر سے ان کا آمنا سامنا ہو گا۔

غور طلب ہے کہ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ امریکی رشتوں کا دفاع کیا ہے، جبکہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان خشوگی قتل معاملہ میں سعودی عرب پر دباؤ بنائے ہوئے ہیں۔ 2 اکتوبر کو ترکی میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں جمال خشوگی کے قتل کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے تھے۔

 

رائل یونائٹیڈ سروسیز انسٹی ٹیوٹ اینڈ اٹلانٹک کونسل میں ریسرچ اسکالر ایچ اے ہلیار نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے شہزادے کے اس دورے کا مقصد اپنی شبیہ بہتر بنانا اور اتحادی ملکوں کے ساتھ رشتے سدھارنا ہے۔

Share This Article