گیلانی ،میر واعظ خانہ نظر بند ،ملک گرفتار،شہر خاص سیل ،جامع مسجد کے منبر ومحراب خاموش
متعدد نوجوان تھانہ نظر بند،جنگجوحزب کمانڈر کے قبرستان میں نمودار ،ہوائی فائرنگ کرکے سلامی پیش ک
سرینگر:٦،جولائی :کے این این/ حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی سے 2روز قبل شہر خاص میں پابندیاں وبندشیں عائد کردی گئیں جبکہ مرکزی جا مع مسجد کو سیل کرکے یہاں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔اس دوران مزاحمتی لیڈران کے خلاف بھی کریک ڈائون شروع کیا گیا ،جس دوران گیلانی ،میر واعظ سمیت کئی لیڈران کو خانہ نظر بند کردیا گیاجبکہ لبریشن فر نٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو جمعہ کی صبح حراست میں لیکر تھانہ نظر بند رکھا گیا ۔اس دوران حزب کمانڈر برہان وانی کے قبرستان میں جنگجو نمودار ہوئے ،جہاں انہوں نے ہوائی فائرنگ کرکے اپنے ساتھی کو خراج پیش کیا ۔ادھر مزاحمتی لیڈر انجینئر ہلال احمد وار اور جاوید احمد میر ترال پہنچنے میں کامیاب ہوئے ،جہاں انہوں نے حزب کمانڈر کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اور اہلخانہ کے ساتھ تعزیت پرسی بھی کی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی سے2روز قبل شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں سیکورٹی انتظامات سخت کردئے گئے ۔جمعہ کو شہر خاص میں پابندیاں اور بندشیں عائد کی گئیں اور لوگوں کی نقل وحرکت کو محدود رکھا گیا ۔نوہٹہ ،گوجوارہ ،راجوری کدل ،نواکدل ،کائوڈارہ ،نالہ مار روڑ سمیت کئی علاقوں میں جمعہ کی علی الصبح پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور یہاں کرفیو جیسی پابندیاں کی گئیں ۔پابندیوں وبندشوں کے باعث یہاں معمول کی کاروباری اوردیگر سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی متبادل روٹوں کا استعمال کرنا پڑا ۔شہرخاص کے نوہٹہ علاقہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کو بھی مکمل طور پر سیل کیا گیا ،جس دوران یہاں نماز جمعہ اداکرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔جامع مسجد کے گرد ونواح میں پولیس و سی آر پی ایف کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ مرکزی گیٹ کو مقفل رکھا گیا ۔مسجد کے ارد گر اضافی فورسز اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ چاروں اطراف سے تار بندی کی گئی تھی۔جامع مسجد کی طرف جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑا کی گئی تھیںاور کسی بھی شخص کو اس اور جانے کی اجازت نہیں دی۔ نوہٹہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو جمعہ کی صبح ہی مقفل کیا گیا۔جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا نہ کرنے پر حیریت(ع) میرواعظ عمر فاروق نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹوئیٹ کیا اور کہا ’سال ِ رواں یہ آٹھواں جمعتہ المبارک ہے جب جامع مسجد سرینگر جانے کے تمام راستے مسدود کردئے گئے اور نماز جمعہ جیسے اہم فریضے کی ادائیگی سے طاقت کے بل پر روکا گیا ،یہ حکمرانوں کی واضح بوکھلاہٹ اور آمریت کا بدترین مظاہرہ ہے ‘۔اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت کو خانہ وتھانہ نظر بند رکھا گیا ۔سید علی گیلانی کی طویل ترین خانہ نظر بندی جاری رکھی گئی جبکہ جمعہ کو میر واعظ عمر فاروق کو بھی خانہ نظر بند رکھا گیا اور اُنہیں گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی ۔ادھر ایک تحریری بیان کے مطابق پیپلز پو لٹکل پارٹی کے چیئرمین انجینئرہلال احمد وار اور لبریشن فرنٹ کے چیئرمین جاوید احمد میر نے جمعہ کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ترال کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر وار اور میر نے حزب کے شہید کمانڈر بُرہان مظفر وانی کو اُنکی برسی پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ۔بیان کے مطابق قائدین نے شہید سبزار احمد بٹ ، شہید عابد حُسین خان ، شہید اشفاق خان اور دوسرے شہداء کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔بیان میں کہا گیا کہ وار اور میر نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شہداء کے حق میں شہید مزار جا کر فاتحہ خوانی کی اور شہداء کے گھر جا کر اُنکے لواحقین سے ہمدردی کا اظہارکیا۔بیان کے مطابق اس موقعے پر ہلال احمد وار اور جاوید احمد میر نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں دی جا رہی قربانیوں کی حفاظت کرنا ہم سب کا اولین فرض ہے۔ اور شہدائے کشمیر اور کشمیری عوام کی حقِ خود ارادیت کی آواز کو ہر سطح پر جاری رکھا جائے گا۔ کیونکہ شہدائے کشمیر نے اپنے گرم گرم لہو دے کر تنا زعہ کشمیر کو عالمی ایوانوں میں زندہ رکھا اور انہی قُربانیوں کی بدولت تنازعہ کشمیر آج بھی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گونج رہا ہے ۔ ادھر ذرائع سے ملی تفصیلات کے مطابق شہر خاص میں برہان وانی کی دوسری برسی کے پیش نظر نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ کئی روز سے پولیس نے شہر خاص کے کئی علاقوں جن میں ڈبہ تل نواب بازار ،صالحہ مسجد ،نواکدل،سید حمید پورہ ،خانیار ،زینہ کدل ،با با ڈیمب شامل ہیں ،میں شبانہ چھاپے ڈالے گئے ،جس دوران قریب ایک درجن نوجوانوں کو حراست میں لیکر مختلف تھانوں میں نظر بند رکھا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ پولیس تھانہ خانہ ،زینہ کدل ،مہاراج گنج اور صفاکدل تھانوں میں نوجوانوں کو زیر حراست میں رکھا گیا ہے اور اہلخانہ سے کہا گیا ہے اُنہیں پیر کے روز رہا کردیا جائیگا ۔ذرائع نے بتایا کہ برہان وانی کی دوسری برسی کے پیش نظر پتھرائو کے ممکنہ واقعات کو روکنے کیلئے یہ اقدامات اٹھائے گئے کیو نکہ جن نوجوانوں کو تھانہ نظر بند رکھا گیا وہ پتھرائو کے واقعات میں ملوث رہ چکے ہیں ۔ادھر رپورٹس کے مطابق حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے موقع پر اُن کے آبائی قبرستان ترال میں جنگجو نمودار ہوئے ،جہاں انہوں نے ہوائی فائرنگ کرکے اپنے ساتھی سلامی پیش کی ۔معلوم ہو اہے کہ 5نقاب پوش مسلح جنگجو یہاں نمودار ہوئے ،جنہوں نے برہان کی قبر کے نزدیک جاکر ہوائی فائرنگ کی اور خراج پیش کرنے کے بعد وہاں سے فوری طور فرار ہوئے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 8جولائی 2016کو حزب کمانڈر برہان وانی دو ساتھیوں سمیت کوکرناگ کے ایک علاقے میں جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوا تھا ،جسکے بعد وادی کشمیر میں کئی ماہ عوامی ایجی ٹیشن چلی ،جس دوران ہڑتال اور غیر یقینی صورتحال اور پرتشدد مظاہروں کے فورسز کی فائرنگ قریب90نوجوان جاں بحق ہوئے تھے اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سینکڑوں افراد چھرے لگنے سے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوئے تھے ۔یاد رہے کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے 2016 کی عوامی تحریک کے دوران جاں بحق کمانڈر برہان مظفر وانی سمیت 126 جاں بحق نوجوانوں کے علاوہ مزاحمتی تحریک کے دوران آج تک کے جملہ شہداء کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے مورخہ 6؍جولائی بروز جمعہ تمام ائمہ مساجد سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھاکہ اس روز اپنے جملہ شہداء کی یاد میں دُعائیہ مجالس کا انعقاد کیا جائے اور ان شہداء کے ایصال وثواب کے لیے اجتماعی فاتحہ پڑھی جائے۔ مورخہ 8؍جولائی اتوار ریاست گیر ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے اس روز قصبہ ترال میں حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کے آبائی مزار پر جملہ شہدائے کشمیر کے حق میں خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے ایک عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔
