وزیراعلیٰ ہمارا،باقی سب تمہارا،باغی ممبران اسمبلی کیلئے بھاجپاکی شرط،دلی میں میری موجودگی سے متعلق خبرقیاس آرائی پرمبنی:ڈاکٹرحسیب درابو

حکومت سازی کی کوششوں کوپہلادھچکا

بھاجپاکاپی ڈی پی ممبران اسمبلی کابھاجپاکیساتھ کوئی رابطہ نہیں :رویندررینا

سری نگر:٦،جولائی :کے این این/ پی ڈی پی کے ناراض اورباغی ممبران اسمبلی کی بھارتیہ جنتاپارٹی کیساتھ نئی سرکارتشکیل دینے کی کوششوں یاامکانات کواُسوقت ایک بڑاجھٹکالگاجب بھاجپانے مبینہ طورپریہ شرط رکھ دی کہ حکومت بنانے کی صورت میں وزیراعلیٰ اس پارٹی کاہوگا،اوروہ بھی ہندئو۔اس دوران سابق وزیرخزانہ اورپی ڈی پی لیڈرڈاکٹرحسیب درابونے نئی دہلی میں سجادغنی لون کیساتھ اُنکی ملاقات کوقیاس آرائی سے تعبیرکرتے ہوئے سوال کیاکہ کیاوہ بیک وقت مختلف مقامات پرہوسکتے ہیں ۔اُدھربھاجپاکی ریاستی شاخ کے صدررویندررینانے حکومت سازی سے متعلق خبروں کو قیاس آرائی قراردیتے ہوئے کہاکہ نہ تواُنکی جماعت سرکاربنانے کیلئے کوشاں ہے اورنہ پی ڈی پی کے ناراض ممبران اسمبلی کابھاجپاکیساتھ کوئی رابطہ ہے۔کے این این کے مطابق کچھ نجی نیوزچینلوں پراسبات کاانکشاف کیاگیاہے کہ بھاجپانے جموں وکشمیرمیں حکومت سازی سے متعلق اپنی شرط پی ڈی پی کے ناراض ممبران اسمبلی کے سامنے رکھ دی ہے ،اورشرط یہ ہے کہ ’’وزیراعلیٰ بھاجپاکاہو،اوروہ بھی ہندئو‘‘۔نجی نیوزچینل ’ری پبلک ٹی وی‘کی ایک رپورٹ میں بتایاگیاکہ بی جے پی نے پی ڈی پی کے ناراض ممبران اسمبلی کے سامنے یہ شرط رکھی ہے کہ وزیراعلیٰ ہماراہوناچاہئے ،اوراسکے بدلے آپ سبھی کوکابینہ میں بطورسینئریاجونیئروزیراورمختلف بورڈوں میں بطورائس چیئرمین جگہ دی جائیگی یاکہ ایڈجسٹ کیاجائیگا۔ایک اورمیڈیارپورٹ میں یہاں تک بتایاگیاکہ بھاجپانے ڈاکٹرجتندرسنگھ کووزیراعلیٰ کے عہدے کااُمیدوارنامزدکردیاہے۔تاہم بھاجپاکی ریاستی شاخ کے صدررویندررینانے ایسی خبروں کوجھوٹ پرمبنی قراردیا۔رویندررینانے کے این این کیساتھ فون پربات کرتے ہوئے کہاکہ بھاجپاکی جانب سے حکومت بنانے کیلئے کوئی کوشش نہیں ہورہی ہے ۔انہوں نے یہاں تک کہاکہ پی ڈی پی کے ناراض ممبران اسمبلی کابھاجپاکیساتھ کوئی رابطہ ہی نہیں ۔خیال رہے حکومت سازی سے متعلق خبروں اورقیاس آرائیوں کواسوقت تقویت ملی جب جمعرات کویہ بات میڈیامیں آئی کہ سابق وزیرخزانہ ڈاکٹرحسیب درابواورسابق کابینہ وزیرسجادغنی لون کے درمیان نئی دہلی کے ایک ہوٹل میں اہم ملاقات ہوئی ہے ۔تاہم جمعہ کے روزحسیب درابونے اس ملاقات کی کھلی اُڑاتے ہوئے سماجی رابطہ گاہ ٹویٹرپرایک ٹویٹ میں یہ سوال کیاکہ کیاوہ بیک وقت کئی جگہوں یامقامات پرہوسکتے ہیں ۔ڈاکٹرحسیب درابونے ایک ٹویٹ میں لکھا’ان دنوں ایسالگتاہے کہ میں بیک وقت کئی مقامات پرہوں ،مجھے محسوس ہوتاہے کہ میں کہاں ہوں ،کس سے ملاقات کی ،میں نے کیاتبادلہ خیال کیا،اسے لوگوں کوکافی دلچسپی ہے‘‘۔انہوں نے ٹویٹ میں آگے لکھاہے ’’آپ کوپریشانی سے بچانے کیلئے اب میں اپنی سرگرمیوں اورمختلف مقامات پرموجودگی سے متعلق ٹویٹ کے ذریعے آپ کوباخبرکھوں گا‘‘۔ڈاکٹردرابونے اسے پہلے ایک ٹویٹ میں ممبئی کے ایک ہوٹل میں ظہرانہ کئے جانے اوراس دوران کھائے گئے پکوانوں،مسکرانے ہنسنے ،صحافی دوستوں کیساتھ بات چیت کاذکرکیاہے۔سابق وزیرخزانہ نے اس ٹویٹ کے آخرمیں طنزیہ اندازمیں تحریرکیاہے کہ کیاقیاس آرائیوں کوبہترطوراستعمال نہیں کیاجاسکتاہے؟۔غورطلب ہے ممبراسمبلی پٹن عمران انصاری ،اُنکے چچاممبراسمبلی زڈی بل سری نگرعابدانصاری ،ممبراسمبلی ٹنگمرگ محمدعباس وانی ،ممبراسمبلی نورآبادکولگام عبدالمجیدپڈراورممبراسمبلی بارہمولہ جاویدحسن بیگ کی جانب سے پی ڈی پی لیڈرشپ کیخلاف کی گئی بغاوت یاباغیانہ تیورظاہرکئے جانے کے بعداسبات کی قیاس آرائیوں کوتقویت ملی کہ ممکنہ طورپرپی ڈی پی سے ممبران اسمبلی کی ایک بڑی تعدادالگ گروپ بناکربی جی پی کیساتھ نئی سرکار تشکیل دینے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ نئی حکومت تشکیل دئیے جانے کی درپردہ کوششوں میں پیپلزکانفرنس کے چیئرمین اورسابق وزیرسجادغنی لون کوسرگرم ظاہرکیاگیا،جبکہ انہوں نے اس حوالے سے آج تک کسی سرگرمی کاخودکوئی خلاصہ یااعتراف نہیں کیا۔19جون کوبھاجپاکی جانب سے پی ڈی پی سے ناطہ توڑے جانے کے نتیجے میں سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی والی سرکاراقلیت میں آگئی ،اوراسی بناء پرموصوفہ نے مستعفی ہونے کافیصلہ لینے کے بعداپنااستعفیٰ ریاستی گورنرکوبھیج دیا۔اقتدارسے بیدخل ہوجانے کے بعدپی ڈی پی کے اندرکاخلفشارباہرآگیا،اورکئی ممبران اسمبلی نے پارٹی لیڈرشپ بالخصوص محبوبہ مفتی کی قیادت پرعدم اعتمادظاہرکردیا۔پارٹی کے ان ناراض یاباغی ممبران اسمبلی میں سے کئی ایک نے یہ دعویٰ تک کردیاکہ پی ڈی پی کے نصف سے زیادہ ارکان اسمبلی اُن کے گروپ میں شامل ہیں ،اوروہ سبھی بھی نئی تشکیل پانے والی سرکارمیں شامل ہونگے ۔مخلوط سرکارگرجانے کے بعدبھاجپاکے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھوکی سجادغنی لون کیساتھ ملاقات کے بعدسے ہی نئی سرکارتشکیل دئیے جانے سے متعلق قیاس آرائیوں کابازارگرم ہونے لگا،اورگزشتہ دوہفتوں سے ذرائع ابلاغ میں یہی خبریں شہ سرخیوں کیساتھ شائع ہورہی ہیں کہ پی ڈی پی سے الگ ہونے والے ممبران اسمبلی بھاجپاکیساتھ ملکرنئی سرکارتشکیل دینے والے ہیں ۔

Share This Article