حد متارکہ کے نزدیک کیرن سیکٹر میں معرکہ آرائی

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Photo

ایک فوجی اہلکار ہلاک ،تلاشی کارروائی جاری ،بانڈی پورہ میں اسلحے کی کھیپ ضبط

کپوارہ ،بانڈی پورہ:۷،جون: / سرحدی ضلع کپوارہ میں تین سیکٹروں میں تین در اندازی کی کوششوں کے بیچ کیرن سیکٹر میں حد متارکہ کے نزدیک جنگجوؤں نے فوج پر حملہ کیا جسکے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار کی موت ہوگئی جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا ،جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطرفوجی اسپتال منتقل کیا گیا ۔ علاقے میں جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے بڑے پیمانے پر تلاشی عمل شروع کردیا گیا ۔ادھر بانڈی پورہ کے بونہ زوری جنگلات میں جنگجوؤں کی کمین گاہ سے اسلحے کی بھاری کھیپ ضبط کرنے کا فوج نے دعویٰ کیا ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق سرحدی ضلع کپوارہ میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک جنگجوؤں نے فوج پر حملہ کیا ،جسکے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوئے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ6آر آر نے کیرن سیکٹر میں کچھال پوسٹ کے نزدیک مسلح جنگجوؤں کے ایک گروپ کو روکا ۔جس دوران جنگجوؤں نے اُن پر حملہ کیا ۔ذرائع کے مطابق چوکی بل جنگلات میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک جنگجوؤں اور فوج کے درمیان اچانک آمنا سامنا ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ جدید اسلحے سے لیس 3سے5جنگجو ؤں کے گروپ کو چیلنج کیا گیا ،جس دوران انہوں نے فوجی پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کی ،جسکے ساتھ ہی طرفین کے مابین جھڑپ کا سلسلہ شروع ہوا ۔دفاعی ترجمان نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مرحلے کی فائرنگ میں 2فوجی اہلکار زخمی ہوئے ،جنہیں ملٹری اسپتال درگہ مولہ علاج ومعالجہ کی خاطر منتقل کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ زخمی فوجی اہلکاروں کو تشویشناک حالت میں سرینگر کے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ،جہاں سپاہی سکھ ویندر سنگھ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔یاد رہے کہ بدھ کے روز وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے دو روزہ دورے سے قبل سرحدی ضلع کپوارہ کے مڑھل سیکٹر میں تازہ دراندازی کے دوران فوج اور جنگجوؤںں کے درمیان جھڑپ میں 3جنگجو جاں بحق ہوئے۔فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کی علی الصبح حد متارکہ پر ڈیوٹی پر تعینات فوجی اہلکاروں نے جنگجو ؤں کے گروپ کو دراندازی کی کوشش کے دوران دیکھا اور انہیں ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی، تاہم جنگجو ؤں نے فوج پر اندھا دھند فائرنگ کی۔بعد میں فوج نے دعویٰ کیا کہ جھڑپ میں 3 جنگجو جاں بحق ہوگئے۔ تاہم انکی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔جھڑپ کے بعد علاقہ کے ایک وسیع حصہ کو محا صرے میں لیا گیا اور تلاشی کارروائی شروع کی۔ علاقہ میں مزید فوج طلب کی گئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کپوارہ ضلع میں کیرن، کرناہ اور مڑھل سیکٹروں میں یہ تیسری در اندازی کی کوشش ہے اور اب تک جھڑپوں میں کل ملا کر 9جنگجو جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں پلوامہ اور کولگام کے دو مقامی جنگجو بھی شامل ہیں جبکہ باقی کرناہ کے وڈون علاقہ میں سپرد خاک کئے گئے۔ادھر فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ تلاشی کارروائی کے دوران بانڈی پورہ کے جنگلات سے بھاری مقدار اسلحہ وگولی بارود ضبط کیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 27آر آر نے پاری بل ٹکری علاقے میں جنگجوؤں کی ایک کمین گاہ جو پہاڑی کے دامن میں زیر زمین بنائی گئی تھی ،کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ۔فوج کے مطابق یہ کمین گاہ بونہ زوری جنگلات میں قائم کی گئی تھی ،جہاں بھاری مقدار اسلحہ وگولی بارود ضبط کیا گیا ۔فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مصدقہ اطلاع ملنے پر عمل میں لائی گئی ۔ضبط شدہ ہتھیاروں میں ایک اے کے47رائفل ،8میگزین ،242راؤنڈ گولیاں ،2چینی ساخت پستول ،3میگزین ،22گولیاں ،5چینی ساخت گرینیڈ ،15یو بی جی ایل ،دور بین ،ٹیلی سکوپ سائٹ بشمول کمنیکیشن آلات اور کپڑے ودیگر مواد شامل ہے ۔فوج کا کہنا ہے کہ جنگجو ایک بڑے حملے کا منصوبہ رکھتے تھے ،جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنادیا گیا ۔

Share This Article