حالات آئے روز بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں ۔انسانی جانیں تلف ہورہی ہیں ۔نوجوان نسل مشتعل ہے اور پولیس وفورسز حالات پر قابو پانے کیلئے حکمت عملی نہیں بلکہ طاقت کا بے تحاشا استعمال کررہی ہے ۔ دنیا میں انسان کی جان ہر شئے سے قیمتی اور انمول ہے لیکن یہاں انسانی جانوں کی کوئی قدر ہی نہیں رہی ہے ۔کسی کو مارنے کے بعدسرکار یا انتظامیہ ان ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے کا ڈھول پیٹ رہے ہیں لیکن اب تک نہ کسی قاتل کوسزا ملی اور نہ کسی مقتول کو انصاف ملا ۔یہاں بات قابل ذکر ہے کہ جنوبی کشمیر ضلع کولگام کے کھڈونی علاقہ میں اس وقت صف ماتم بچھ گیا جب فورسز اور نوجوانوں کے درمیان تصادم آرائی ہوئی اس دوران ایک کمسن لڑکی سمیت تین نوجوان موت کے آغوش میں چلے گئے ۔جذبات کو گولیوں سے دباناانسانیت کا تقاضا نہیں ہے ۔غیر مسلح افراد پر اسلح کو بروئے کار لاناکسی بھی طرح جائز نہیں ہوسکتا ہے ۔ٹھیک ہے کہ مشتعل افراد کو قابو پانے کیلئے فورسز ایسے ہتھیاروں وآلات کو استعمال میں لاتی جس سے مظاہرین یا مشتعل ہجوم خوفزدہ ہوکر مننتشر ہوجاتے لیکن یہاں اس کے برعکس حالات سامنے آتے ہیںجس سے پوری انسانیت شرمسار ہوتی ہے ۔نوجوانوں کو گولیوں سے موت کے آغوش میں پہنچانے کے بعد سبھی سیاستدان اور منتظمین وائے ویلا کرتے ہیں اور اخبارات و ذرایع ابلاغ کے دوسرے وسائل کے ذریعے مذمتی بیانا ت جاری کرتے ہیں اور جاں بحق ہونے کے بعدکئی دنوں تک خراج عقیدت بھی پیش کیا جاتا ہے ۔ہڑتال کی کال دی جاتی ہے معمولات زندگی ایک یا دو دنوں تک معطل رہتی ہیںلیکن اس کے بعد معمولات زندگی بحال ہوکر لوگ اپنے کاموں میں جڑ جاتے ہیں منتظمین و سیاستدان اپنے بیانات میں بغیر کسی تاخیر کے لچک لاکرنوجوانوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فورسز کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔موجودہ صورتحال ہر ایک متنفس کیلئے چشم کشا ہیں اور ہرکوئی انسانیت کے ناطے اس افراتفری اور قتل و غارت کا خاتمہ تو چاہتا ہے لیکن یہ جذبات صرف بیان بازی اور بحث ومباحثہ تک ہی محدود رہتے ہیں جبکہ اس کیلئے موثر اقدانات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔نوجوان ہمارے سماج کا مستقبل ہے اور ہر قوم کیلئے نوجوان سرمایہ ہوتا ہے یہ معمار قوم ہوتے ہیں لیکن حالات وواقعات اور رخطے میں پھیلی بدامنی سے آئے روز نوجوان کی ایک خاصی تعداد عسکریت کی طرف بڑھ رہے ہیں جو تشویشناک عمل ہے ۔آخر یہ کیوں ؟ کیا اس سے خطے میں ہی نہیںبلکہ پورے برصغیر میںمزید تباہی کا اندیشہ نہیں ہے ؟ کیا بھارت کے حکمران اور سیاستدان جو فہم وفراست کے مالک ہیں کا توجہ اس طرف نہیں جاتا ہے ۔ریاست جموں وکشمیر لوگ تو گولیوں کاشکار ہوکر جاں بحق ہوجاتے ہیں اور کسی کے مرنے کے بعد کئی تک دنوں تک حالات خراب رہنے کے بعد پھر حالات پٹری پر آجاتے ہیں ۔کیا اس طرح امن قائم ہوسکتا ہے ؟یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ اگر یہاں کی نوجوان نسل نوجوانوں کا قتل ہونے کے بعد خومزدہ ہوجاتے تو شاید اس طرح کے حالات سامنے نہیں آتے ۔بلکہ ایسے دلدوز واقعات پیش آنے کے بعد حالات سنگین رخ اختیار کرتے ہیں ۔اس لئے یہ حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔کیونکہ انسانوں کی جانیں جو قیمتی اور انمول ہیں زیاں ہورہی ہیں ۔کیا انسانیت کے ناطے اس پر ہر ایک کو بالعموم اورملک کے حکمرانوں اور سیاست وجمہوریت کے علمبرداروں کو بالخصوص سوچا نہیں چاہئے ۔ انسان کس مذہب ،کس ذات یا کس علاقہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن دنیا کی عظیم ترین شئے ہے جس کے مرنے کے بعد اس کاکوئی نعم البدل نہیں مل سکتاس ہے ۔اس طرح سے یہ انسانی جانوں کی آئے روز تلافی ایک چیلنج بنا ہوا ہے ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے حکمران بنیادی مسائل کی طرف توجہ دے کر طاقت کے بل پر نہیں بلکہ حکمت عملی کامظاہرہ کرکے ٹھوس اور موثر اقدمات اٹھائے جائیں تاکہ خطے میں قتل وغارت گری اور بدامنی کا خاتمہ ہوسکے

