جنیوا اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانا پاکستان کی فضول مشق ، پاکستان بھارت مخالف کارروائیاں بند کریں

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/26فروری : جنیوا میں والی انسانی حقوق کونسل اجلاس میں مسئلہ کشمیر سے متعلق بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اجلاس میں شامل بھارتی مندوب نے واضح کیا کہ کشمیر سے متعلق بھارت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جبکہ جموں و کشمیر، بھارت کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق منگل کو جنیوا میں والی انسانی حقوق کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق شیر ی مرزا نے کشمیر معاملے کی ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ کشمیر میں بندشیں ہٹائی جائے جبکہ سیاسی لیڈران کو جلد از جلد رہا کیا جائے ۔ پاکستانی وزیر کے بیان پر سخت رد عمل کااظہار کرتے ہوئے اجلاس میں شامل بھارت کے سکریٹری (ویسٹ)ایم ای اے وکاس سورپ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق بھارت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جموں و کشمیر، بھارت کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔انہوں نے کہا کہ جن مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان نے جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور انہیں آزاد کرانا ہے، اگر مزید مسائل ہوں گے تو انہیں ہم دو طرفہ گفتگو سے حل کریں گے، اس معاملے میں کسی بھی ثالثی کی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کی تنظیمیںبھارت کے خلاف سرحد پار سے ہونے والی شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ایک قابل اعتماد اور مستحکم اقدام اٹھانے پر زور دیں گے، جس سے سب سے بنیادی انسانی حقوق یعنی کو خطرہ ہے۔سکریٹری (ویسٹ)ایم ای اے وکاس سویپ ہندوستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق سیشن کے دوران ، رسمی طور پر پیش کردہ مسودہ تجاویز کے بارے میں معلومات ، بشمول زبانی ترامیم پر بحث ہوئی ۔ ( سی این آئی )

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے