سری نگر جموں: جموں وکشمیر کی دونوں دارالحکومتوں سری نگر اور جموں میں بدھ کے روز سخت ترین حفاظتی حصار میں یوم جمہوریہ کے سلسلے میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی۔ ریاست کے باقی دوسرے ضلع ہیڈکوارٹروں میں بھی سخت سیکورٹی انتظامات میں یوم جمہوریہ کی فل ڈریس ریہرسل تقریبات کا انعقاد عمل میں آیا ہے ۔
سری نگر کے ہائی سیکورٹی زون سونہ وار میں واقع شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم اور جموں کے مولانا آزاد اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے موقعہ پر بالترتیب ڈویژنل کمشنر کشمیر بصیر احمد خان اور ڈویژنل کمشنر جموں ہیمنت کمار شرما نے پرچم کشائی کی رسم انجام دی اور پریڈ کی سلامی لی۔ شیر کشمیر اسٹیڈیم سری نگر میں منعقدہ ریہرسل تقریب میں سخت سردی کے باوجود مختلف تعلیمی اداروں کے طلباءوطالبات کے ساتھ ساتھ مرکزی نیم فوجی دستوں، جموں وکشمیر پولیس، ہوم گارڈ اور فائر اینڈ ایمرجنسی سروس نے پریڈ میں حصہ لیا۔
ریہرسل سے قبل اسکولی بچوں اور بچیوں کو اسٹیڈیم میں داخل ہونے کے لئے سخت سردی کے باوجود کڑی جامہ تلاشی کے مرحلے سے گذرنا پڑا۔ اسکولی اساتذہ نے یو این آئی کے نامہ نگار کو بتایا ’جامہ تلاشی اور شناخت کی تصدیق کے لئے ہمارے طلبہ و طالبات کو اسٹیڈیم کے باب الداخلے پر منٹوں تک قطار میں ٹھہرایا گیا‘۔ فل ڈریس ریہرسل کی اس تقریب میں فنکاروں اور طالب علموں نے رنگا رنگ ثقافتی پروگرام بھی پیش کئے۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ یوم جمہوریہ کی ریہرسل تقریبات کے دوران سری نگر کے شیر کشمیر اسٹیڈیم اور دیگر اضلاع میں واقع اسٹیڈیموں کے اندر و باہر سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اضافی اہلکاروں کو تعینات کر رکھا گیا تھا۔ جموں کے مولانا آزاد اسٹیڈیم میں منعقدہ تقریب میں 44 دستوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر ڈویژنل کمشنر ہیمنت کمار شرما نے پرچم کشائی کی رسم انجام دی اور پریڈ کی سلامی لی۔ ہیمنت کمار نے اس موقعہ پر موجود نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ یوم جمہوریہ کی تقریبات کے سلسلے میں سیکورٹی کے کافی پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ ہم نے پوری تیاری کرلی ہے۔ ریہرسل میں اسکولی بچوں کی خاصی شرکت رہی۔ کل ملاکر 44 دستے شرکت کررہے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا ’ہم اپنی طرف سے الرٹ ہیں۔ سب کچھ ٹھیک رہے گا۔ ہم نے پوری تیاری کرلی ہے‘۔
ریاست کے دونوں خطوں (کشمیر اور جموں) میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے احسن انعقاد کے لئے سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔ سوپور میں حالیہ آئی ای ڈی دھماکے کے پیش نظریاست بھر میں تعینات سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرحدوں پر دراندازی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے طور پر فوجیوں کی اضافی نفری کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ نگرانی بھی بڑھادی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’اگرچہ جنگجوو¿ں کے ممکنہ حملوں کے متعلق کوئی خفیہ اطلاع نہیں ہے لیکن سیکورٹی فورسز کوئی چانس نہیں لے رہے ہیں‘۔ انہوں بتایا ’کچھ جنگجو یوم جمہوریہ کی تقریبات میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں کرسکتے ہیں، اور ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز تیار ہیں‘۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق یوم جمہوریہ کی تقریبات سے قبل دراندازی کی ممکنہ کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے جموں خطہ میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر تعینات سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر شبانہ گشت بھی بڑھا دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یوم جمہوریہ کی تقریبات جہاں جہاں منعقد ہونے والی ہیں، کو چوبیسوں گھنٹے سیکورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ سری نگر میں شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم جہاں یوم جمہوریہ کی سب سے بڑی تقریب منعقد ہوگی، کے گرد ونواح میں سیکورٹی کا سخت بندوبست کیا گیا ہے جبکہ سری نگر اور وادی کے دوسرے اضلاع میں راہگیروں کی جامہ تلاشیوں اور گاڑیوں کی چیکنگ کا عمل گذشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے۔
سری نگر میں یوم جمہوریہ کی تقریب ائرپورٹ روڑ پر واقع بخشی اسٹیڈیم میں منعقد کی جاتی تھی، تاہم وہاں مرمت کا کام جاری ہونے کی وجہ سے اس تقریب کو امسال شیر کشمیر اسٹیڈیم میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کسی بھی ناگہانی واقعہ سے نمٹنے کے لئے شیر کشمیر اسٹیڈیم کے گردونواح میں ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ اسٹیدیم کے قریب واقع تمام اونچی عماروں بالخصوص سلیمان ٹینگ پر ماہر نشانہ بازوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اسٹیڈیم کے باب الداخلہ کو بھی خاردار تار سے بند رکھا گیا ہے اور صرف سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں کو اندر جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔ شیر کشمیر اسٹیڈیم کی طرف جانے والی سڑک کو منگل کے روز سرکاری طور پر گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کردیا گیا۔
اسٹیڈیم کے گردونواح میں کئی ایک حساس مقامات پر مشتبہ افراد کی نقل وحرکت پر قریبی نگاہ رکھنے کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں اور بلٹ پروف گاڑیاں تعینات کردی گئی ہیں۔ سراغ رساں کتوں، میٹل ڈٹیکٹرس اور بم ڈسپوزل اسکوارڈ کی مدد سے شیر کشمیر اسٹیدیم اور چرچ لین کی چیکنگ انجام دی گئی۔ سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے یوم جمہوریہ کی تقریب سے قبل جنگجوو¿ں کے کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کے لئے اسٹیڈیم کے تین کلو میٹر کے دائرے میں آنے والے علاقوں بالخصوص ڈلگیٹ اور سونہ وار میں شبانہ گشت بھی تیز کردی ہے۔
یوم جمہوریہ کی تقریبات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے وادی کے اطراف واکناف بالخصوص مختلف اضلاع کو گرمائی دارالحکومت کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے خصوصی ناکے بٹھائے گئے ہیں جہاں چھوٹی بڑی گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جاتی ہے اور ان میں سوار مسافروں کی جامہ تلاشی لینے کے علاوہ شناختی کارڈ چیک کئے جاتے ہیں۔ بدھ کی صبح سے ہی مختلف اضلاع کو سری نگر سے جوڑنے والی سڑکوں پر تعینات سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس اہلکاروں کو گاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشی لینے میں مصروف دیکھا گیا۔ کئی ایک جگہوں پر چیک پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں۔
سری نگر کے سیول لائنز میں سکریٹریٹ اور بڈشاہ چوک کے نذدیک خصوصی ناکے قائم کئے گئے ہیں جہاں تعینات سیکورٹی فورس اہلکاروں کو گاڑیوں کو روک ان کی تلاشی لیتے ہوئے دیکھے گئے۔ ایسے ہی ناکے مختلف اضلاع کو سری نگر سے جوڑنے والی سڑکوں پر بھی قائم کئے گئے ہیں۔ دوسری جانب یوم جمہوریہ کی تقریبات کے پیش نظر جموں میں بھی انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔جموں میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے حوالے سے سب سے بڑی تقریب مولانا آزاد اسٹیڈیم میں منعقد ہوگی جہاںریاستی گورنر این این ووہرا پرچم کشائی کی رسم انجام دیں گے۔ مولانا آزاد اسٹیدیم میں یوم جمہوریہ کی تقریب کے احسن انعقاد کے لئے سیکورٹی کا سخت بندوبست کیا گیا ہے۔ کسی بھی ناگہانی واقعہ سے نمٹنے کے لئے اسٹیڈیم کے گردونواح میں ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ اسٹیڈیم کے داخلی اور خارجی پوائنٹس پر گاڑیوں کی تلاشی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
دریں اثنا جموں وکشمیر پولیس نے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے سلسلے میں متعدد ایڈوائزریز جاری کردی ہیں جن میں اہلیان ریاست کو الرٹ رہنے اورکسی بھی لاوارث چیز کو ہاتھ لگانے سے اجتناب کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ ایڈوائزریز میں تمام پولیس تھانوں اور چوکیوںکے سربراہوں کو چوبیسوں گھنٹے ڈیوٹی پر موجود رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔ یو اےن آئی

