جموں وکشمیر حکومت اپنی پرانی روش پر قائم، یوم جمہوریہ کی تقریبات میں ملازمین کی شرکت لازمی قرار

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Indian policemen march during India's Republic Day parade on a cold winter day in Srinagar January 26, 2017. REUTERS/Danish Ismail

سری نگر: جموں وکشمیر حکومت نے اپنی دو دہائی پرانی روش برقرار رکھتے ہوئے یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریبات میں اپنے ملازمین کی شمولیت کو ایک بار پھر لازمی قرار دے دیا ہے۔ حکومت نے اس حوالے سے جاری کردہ سرکیولرس میں خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین کو تادیبی کاروائی کا انتباہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ سرکیولرس جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، ڈویژنل کمشنر کشمیر اور ضلع مجسٹریٹوںکی طرف سے جاری کئے گئے ہیں اور یہ ملازمین کی یوم جمہوریہ تقریبات میں شرکت کو یقینی بنانے کے لئے جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مرکزی سرکیولر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی سکریٹری کی طرف سے جاری ہوا ہے۔ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ جس کا کام کاج خود ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی دیکھتی ہیں، نے سرکیولر نمبر 02 جی اے ڈی آف 2018 مورخہ 12 جنوری میں تمام سرکاری عہدیداروں بشمول ڈویژنل کمشنر کشمیر سے کہا ہے کہ وہ 26 جنوری کی تقریبات میں سرکاری ملازمین کی شرکت کو یقینی بنائیں۔ سرکیولر میں کہا گیا ہے ’یوم جمہوریہ 2018 کی مرکزی تقریب مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں میں منعقد ہوگی جہاں آنریبل گورنر مارچ پاسٹ پر سلامی لیں گے‘۔ سرکیولر میں کہا گیا ہے ’جموں میں تعینات تمام ریاستی سرکار اور عوامی سیکٹر کے اداروں کے افسروں و اہلکاروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ڈیوٹی کے حصے کے طور پراس تقریب میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں‘۔ سرکیولر میں تمام محکموں کے سربراہوں اور عوامی سیکٹر کے اداروں کے چیف ایگزیکٹوز سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی اور اپنے ماتحت ملازمین کی شرکت کو یقینی بنائیں۔ سرکیولر میں مزید کہا گیا ہے ’تقریب میں غیر حاضری کو ڈیوٹی میں کوتاہی اور حکومتی ہدایت کی نافرمانی تصور کیا جائے گا‘۔ حکم نامے میں ڈویژنل کمشنر کشمیر سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایسی ہی کاروائی کرے۔ رپورٹوں کے مطابق اس سرکیولر پر عمل درآمد کرتے ہوئے ڈویژنل کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے ایک حکم نامہ جاری کرکے تمام ضلع مجسٹریٹوں اور سرکاری عہدیداروں سے کہا ہے کہ وہ اپنے پورے ماتحت عملے کے ساتھ اپنے متعلقہ علاقوں میں ہونے والی یوم جمہوریہ کی تقریبات میں شمولیت کو یقینی بنائیں۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں یوم جمہوریہ کی سب سے بڑی تقریب ہائی سیکورٹی زون سونہ وار میں واقع شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہوگی۔ یہ تقریب ائرپورٹ روڑ پر واقع بخشی اسٹیڈیم میں منعقد کی جاتی ہے، تاہم وہاں مرمت کا کام جاری ہونے کی وجہ سے اس تقریب کو امسال شیر کشمیر اسٹیڈیم میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈویژنل کمشنر نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے ’ڈیوٹی کے حصے کے طور پر سرکاری ملازم کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنی ہے‘۔ اس حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری ملازمین کو تادیبی کاروائی کا انتباہ بھی کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ اور ڈویژنل کمشنر کے سرکیولرس پر عمل درآمد کے طور پر وادی کے سبھی اضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنروں نے اپنے ماتحت افسروں کے نام ایسے ہی حکم نامے جاری کئے ہیں جن میں انہیں یوم جمہوریہ کی تقریبات میں اپنے ماتحت سرکاری ملازمین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے کہا گیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ڈویژنل کمشنر بصیر خان نے ضلع مجسٹریٹ سری نگر سے کہا ہے کہ وہ شیر کشمیر اسٹیڈیم میں ملازمین کی حاضری چیک کرنے کا ذمہ کسی سرکاری ملازم کو دیں۔ جموں وکشمیر کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کی تقریبات میں شمولیت کو اس لئے لازمی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ ریاست بالخصوص وادی کشمیر میں عام شہری ایسی تقریبات کا کلی طور پر بائیکاٹ کرتے ہیں۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے ’یہاں تک کہ مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو بھی ایسی تقریبات میں اپنے کارکنوں کو شمولیت کے لئے قائل کرنے میں خاصی تگ و دو کرنی پڑتی ہے‘۔ مبصرین نے بتایاکہ ریاستی حکومت کے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے حوالے سے سرکاری ملازمین کے لئے احکامات کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ روش وادی میں نوے کی دہائی میں مسلح شورش کے آغاز سے ہی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا ’کشمیری عوام کی ایسی تقریبات میں عدم دلچسپی کے باعث حکومت کو ایسے موقعوں پر بھیڑ اکھٹا کرنے کے لئے سرکاری ملازمین اور اسکولی بچوں پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے‘۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے اس دن کے موقع پر مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ دریں اثنا سری نگر میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے اور جنگجوو¿ں کے کسی بھی منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز نے گاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشی لینے کا سلسلہ مزید وسیع اور تیز کردیا ہے۔ سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہر اور اس کے مضافات میں مختلف مقامات پر ناکے بٹھائے گئے ہیں جہاں گاڑیوں ، مسافروں اور راہگیروں کی تلاشیاں لی جارہی ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ جنگجوو¿ں کی جانب سے حملوں کی منصوبہ بندی کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے تاہم سیکورٹی فورسز یوم جمہوریہ کی تقریبات کے پیش نظر کوئی چانس نہیں لینا چاہتے ہیں۔ شیر کشمیر اسٹیڈیم میں یوم جمہوریہ کی تقریب کے احسن انعقاد کے لئے اس کے گرد ونواح میں سیکورٹی کا سخت بندوبست کیا گیا ہے۔ کسی بھی ناگہانی واقعہ سے نمٹنے کے لئے شیر کشمیر اسٹیڈیم کے گردونواح میں ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی نفری کو تعینات کیا گیا ہے۔ جبکہ پولیس انتظامیہ نے مشتبہ نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لئے نئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے ہیں۔ سری نگر میں کئی ایک حساس مقامات پر مشتبہ افراد کی نقل وحرکت پر قریبی نگاہ رکھنے کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں تعینات کردی گئی ہیں۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ اگرچہ وادی کشمیر میں سیکورٹی فورسز پہلے سے ہی الرٹ پر ہیں تاہم سوپور میں حالیہ آئی ای ڈی دھماکے کے پیش نظر مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے فیلڈ کمانڈروں کو اپنے اپنے علاقوں میں صورتحال پر قریبی نگاہ رکھنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ یو اےن آئی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے