جموں: جموں وکشمیر کے جموں خطہ میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہلاکت خیز گولہ باری کا سلسلہ ہفتہ کو مسلسل تیسرے دن بھی جاری رہا۔ تازہ گولہ باری میں فوج کا ایک اہلکار اور 2 عام شہری ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔
جموں خطہ میں تین تازہ ہلاکتوں کے ساتھ گذشتہ تین دنوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہوگئی ہے۔ مہلوکین میں 4 فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق بھارتی فائرنگ سے وہاں بھی متعدد عام شہری جاں بحق ہوگئے ہیں۔ ایک دفاعی ترجمان نے یہاں یو این آئی کو بتایا ’پاکستان نے ہفتہ کی صبح قریب 8 بجکر 20 منٹ پر ایل او سی کے کرشن گھاٹی سیکٹر میں بھارتی فوج کی چوکیوں اور سرحدی دیہات کو نشانہ بناکر شدید فائرنگ کا آغاز کیا‘۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی فوج نے پاکستان فائرنگ کا موثر اور منہ توڑ جواب دیا۔ ترجمان نے بتایا ’فائرنگ کے تبادلے میں سپاہی مندیپ سنگھ شدید زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا‘۔ انہوں نے بتایا ’23 سالہ مندیپ سنگھ ریاست پنجاب کے ضلع سنگرور کا رہنے والا ہے۔ اس کے پسماندگان میں اس کا والد گرنام سنگھ ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’مہلوک فوجی ایک بہادر اور مخلص سپاہی تھا‘۔ اس دوران پاکستان کی طرف سے جموں میں بین الاقوامی سرحد کے آر ایس پورہ، ارنیہ اور کاناچک سیکٹروں کو مسلسل تیسرے دن بھی نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 15 سالہ گورو رام اور ایک معمر شخص کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔
بعض زخمیوں کی شناخت شیٹلا دیوی ، سونیا دیوی، بلو گوجر، بی ایس ایف ایس آئی جرنال سنگھ کے بطور کی گئی ہے۔ انہیں علاج ومعالجہ کے لئے میڈیکل کالج و اسپتال جموں منتقل کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے سرحدی کشیدگی کے پیش نظر بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول کے نذدیک واقع تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ’جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں بین الاقوامی سرحد کے بیشتر حصوں اور راجوری و پونچھ اضلاع میں ایل او سی پر شدید گولہ باری اور مارٹر گولہ باری کا سلسلہ رات بھر جاری رہا۔
انہوں نے بتایا ’جمعہ کو پاکستانی فائرنگ میں چار افراد بشمول ایک فوجی ایک ، بی ایس ایف ہیڈ کانسٹیبل اور 2 عام شہری جاں بحق جبکہ دو بی ایس ایف اہلکاروں سمیت 50 دیگر زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ رہائشی و سرکاری ڈھانچوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ 100 سے زیادہ مویشی ہلاک ہوئے‘۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ’سرحدوں پر تعینات بی ایس ایف اور فوجی اہلکار سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کا موثر اور منہ توڑ جواب دے رہے ہیں‘۔
انہوں نے بتایا ’جموں میں بین الاقوامی سرحدکے بیشتر حصوں میں شدید گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایل او سی پر فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا ہے‘۔ ذرائع نے بتایا کہ بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی پر جنگ جیسی صورتحال کی وجہ سے سرحدی آبادی میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے، تاہم بڑے پیمانے کے نقصان سے بچنے کے لئے پہلے ہی الرٹ جاری کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا ’بین الاقوامی سرحد کے آر ایس پورہ، ارنیہ، رام گڑھ، ہیرا نگر، کاناچک اور پرگوال سیکٹروں میں رہائش پذیر لوگ محفوظ مقامات بشمول ریلیف کیمپوں میں منتقل ہوئے ہیں‘۔ جموں میں بین الاقوامی سرحد کے آر ایس پورہ اور ارنیہ سیکٹروں اور ضلع سانبہ کے رام گڑھ سیکٹر میں بھارتی اور پاکستانی افواج کے مابین شدید گولہ باری کا سلسلہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات شروع ہوا۔ جمعرات کو گولہ باری کے تبادلے میں جموں میں ایک عام شہری اور بی ایس ایف کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ 10 دیگر زخمی ہوگئے ۔ بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما نے جمعرات کو جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد کی صورتحال کو کشیدہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر تعینات بی ایس ایف اہلکار سرحد پار پاکستان سے ہونے والی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔
ضلع پونچھ میں ایل او سی کے چکاں دا باغ میں منگل کی شام کو پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں فوج کا ایک افسر زخمی ہوا، جس کی شناخت مراٹھا لائٹ انفینٹری کے کیپٹن بنگوریہ کے بطور کی گئی تھی۔ پونچھ میں فائرنگ کا یہ واقعہ بھارتی فوج کے اس دعوے کے ایک روز بعد پیش آیا جس میں پاکستان کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں ایک میجر سمیت سات پاکستانی فوجیوں کو ہلاک جبکہ چار دیگر کو زخمی کردینے کی بات کہی گئی تھی۔ تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان میں جنڈروٹ اور کوٹلی سیکٹرز میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا تھا ’بھارت کی جانب سے اس وقت ایک بڑا مارٹر گولہ داغا گیا جب فوجی اہلکار ترسیلی لائن کی بحالی کے کام میں مصروف تھے‘۔ بیان میں مزید کہا گیا تھا ’بھارت کی جانب سے مارٹر حملے کے بعد طرفین کے مابین گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا جس میں تین بھارتی فوجیوں کو ہلاک جبکہ متعدد دیگر کو زخمی کیا گیا‘۔ یو اےن آئی
