جموں فدائین حملہ: ایک اور فوجی کی لاش برآمد، مہلوک فوجیوں کی تعداد 6 ہوگئی

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں،  (یو ا ین آئی) ::  جموں وکشمیر کی سرمائی دارالحکومت جموں کے مضافاتی علاقہ سنجوان میں واقع سنجوان ملٹری اسٹیشن ( 36 بریگیڈ فرسٹ جموں وکشمیر لائٹ انفینٹری) سے ایک اور فوجی کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ مزید ایک لاش کی برآمدگی کے ساتھ 10 فروری کی علی الصبح جیش محمد کے جنگجوؤں کی طرف سے سنجوان کیمپ پر کئے جانے والے حملے کے مہلوک فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی ہے۔ اس حملے میں ایک عام شہری بھی جاں بحق ہوا تھا۔ حملہ انجام دینے والے تینوں جیش محمد کے جنگجوؤں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کامبنگ آپریشن کے دوران مزید ایک فوجی کی لاش برآمد کی گئی۔ انہوں نے مہلوک فوجی کی شناخت 6 مہار کے حوالدار راکیش چندرا ساکنہ اتراکھنڈ کے بطور کی۔ واضح رہے کہ 10 فروری کی علی الصبح 4 بجکر 55 منٹ پر تین فدائین حملہ آوروں پر مشتمل ایک گروپ نے سنجوان ملٹری اسٹیشن پر حملہ کیا۔ فدائین حملہ آور اندھا دھند فائرنگ اور گرینیڈ داغتے ہوئے کیمپ کے اندر داخل ہوئے تھے۔ حملے کے فوراً بعد مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے اہلکار بشمول ریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے تھے اور پورے علاقہ کو گھیرے میں لیا تھا۔

طرفین کے مابین گولہ باری کا تبادلہ کم از کم 30 گھنٹوں تک جاری رہا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ فدائین حملے کے مہلوکین کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔ ان میں دو جے سی اوز سمیت چھ فوجی اہلکار، ایک عام شہری اور تین حملہ آور شامل ہیں۔ چھ میں سے پانچ مہلوک فوجیوں کا تعلق جموں وکشمیر سے ہے۔ زخمیوں کی تعداد بھی 10 ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے