سرینگر: حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے جموںوکشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کو انتہائی پُر آشوب اور اضطراب انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئے روز ایک نہ دوسرے بہانے نہتے اور معصوم کشمیریوںکا قتل عام گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے برابر جاری ہے جو بیحد افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
موصولہ بیان کے مطابق حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ محمد عمر فاروق جنہیں گزشتہ جمعہ کی خانہ نظر بندی کے بعد مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا موقعہ ملا ۔ نماز جمعہ سے قبل بھاری اجتماع سے خطا ب کرتے ہوئے میرواعظ نے جموںوکشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کو انتہائی پُر آشوب اور اضطراب انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئے روز ایک نہ دوسرے بہانے نہتے اور معصوم کشمیریوںکا قتل عام گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے برابر جاری ہے جو بیحد افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ افسپا اور دیگر کالے قوانینBlack Laws کی موجودگی میں سرکاری فورسز کو جو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں ان کے بل پر وہ کسی بھی قسم کے محاسبے (Accountability)اور جواب دہی سے بالا تر ہوکر جموںوکشمیر میں کشت و خون کی ہولی کھیل رہی ہے اور کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
بیان کے مطابق میرواعظ نے کہا کہ شدید سردی کے ایام میں بھی کشمیر کے طول و عرض میںCASO کے تحت خانہ تلاشیوں، کریک ڈاﺅن اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایک طرف حکومت 2010 اور 2016 میں گرفتار کئے گئے نوجوانوںکو رہا کرنے کا دعویٰ کررہی ہے اور دوسری طرف بندشوں ، تازہ گرفتاریوں ، گھر گھر تلاشیوں اور نوجوانوںکو چُن چُن کر شہید کرنے کا مذموم سلسلہ بھی جاری ہے ۔
بیان کے مطابق حریت چیرمین نے کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے ظلم و زیادتی، جبر وقہر اور مار دھاڑ کی پالیسیاں بدستور جاری ہیں اور ان کی طرف سے کوئی بھی ایسا عمل زمینی سطح پر نظر نہیں آرہا ہے جن سے عوام کو راحت مل سکے۔
بیان کے مطابق میرواعظ نے کہا کہ مزاحمتی قیادت کی پُر امن سرگرمیوں سے حکمران ٹولہ اس درجہ خائف ہے جس کے نتیجے میں پر امن جلسے، جلوسوں ،سمیناروں اور مذاکروں کی تو بات ہی نہیں اب میٹنگوں پر بھی قدغنیں عائد کی جارہی ہیں۔ان حالات میں عالمی برادری کی یہ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کی نسل کشی کو رکوانے ، بنیادی انسانی حقوق کی بے دریغ پامالیوں کے سد باب اور دیرینہ مسئلہ کشمیر کو حق خودارادیت کی بنیاد پر کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق پائیدار بنیادوں پر حل کرانے کیلئے موثر اقدامات اٹھائے۔
میرواعظ نے کہا کہ موجودہ سنگین حالات کے تناظر میں مزاحمتی قیادت کے پاس عالمی سطح پر اپنا احتجاج درج کرانے کیلئے پر امن اور ہمہ گیر ہڑتال ہی ایک ذریعہOption ہے اسی لئے مشترکہ قیادت نے جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں او ر معصوم نوجوانوں کے حالیہ قتل عام کیخلاف کل 13 جنوری2018 کو عوام سے ہمہ جہت ہڑتال کی دردمندانہ اپیل کی ہے تاکہ جموںوکشمیر کی تازہ ترین ابتر صورتحال کی طرف بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کرائی جاسکے ۔
میرواعظ نے توقع ظاہر کی کہ13 جنوری کی ہڑتال کو عوام ہر سطح پر کامیاب بناکر ایک بار پھر اپنے حق و انصاف پر مبنی نصب العین کے تئیں تجدید عہد کریں گے۔
