انقرہ، 08 جولائ : ترکی کے نو منتخب صدر طیب اردغان نے اتوار کو 18،000 سے زائد ملازمین کو برخاست کرنے کے احکامات دیئے ہیں جن میں نصف پولیس اہلکار ہیں۔
ترکی میں جولائی 2016 سے ایمرجنسی تھا۔ ملک میں اس سال ایمرجنسی نافذ ہوئے دو سال پورے ہو جائیں گے اور اس مہینے ہٹنے کی امید ہے۔ گزشتہ ماہ ہوئے صدارتی انتخابات میں اردغان کامیاب ہوئے تھے اور گزشتہ پیر کو صدر کے طور پر حلف لینے کے بعد انہوں نے یہ حکم دیا ہے۔برخاست کئے گئے ملازمین میں 199 لوگ ملک کے مختلف یونیورسٹیوں کے تعلیمی اداروں سےمنسلک ہیں اور پانچ ہزار سے زائد مسلح افواج کے جوان ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے مارچ میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ترکی انتظامیہ کوگرانے کی ناکام کوشش کے بعد سے تقریبا 160،000 شہری ملازمین کو پہلے ہی برخاست کیا چکا ہے۔ ان میں سے 50 ہزار سے زائد لوگوں پر تختہ پلٹنے کا الزام لگایا گیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے انہیں جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔
ترکی کے اتحادی مغربی ممالک نے اس کارروائی کی مذمت کی ہے اور مسٹر اردغان کے ناقدین نے ان پر بحث کئے بغیر اسے دبانے کا الزام لگایا ہے۔ ادھر ترکی کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے لئے پیدا خطرات کی وجہ سے یہ کارروائی کرنی ضروری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جولائی 2016 میں ترکی میں حکومت گرانے کی ناکام کوشش ہوئی تھی جس کے بعد وہاں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے ہی ترکی میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ یواین آئی

