برہان کی دوسری برسی:8جولائی کیلئے ہڑتال کی کال

By
7 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

نریندر مودی کا کشمیر سے متعلق بیان غیر سنجیدگی کا عکاس:مشترکہ مزاحمتی قیادت

سری نگر:۴،جولائی :کے این این/ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے 8جولائی کو ریاست گیر ہڑتال کی کال دیتے ہوئے کہا کہ اس روز جاں بحق حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے موقع پر ترال میں عوامی اجتماع منعقد ہوگا ۔انہوں نے وزیر اعظم ہند نریندر مودی کے کشمیر سے متعلق بیان کو حقیقت سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایسے بیانات دینابھارت کی سیاسی قیادت کی غیر سنجیدگی کا عکاس اور واضح ثبوت ہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے 2016کی عوامی تحریک کے دوران برہان مظفر وانی سمیت 126شہداء کے علاوہ مزاحمتی تحریک کے دوران آج تک کے جملہ شہداء کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے مورخہ 6؍جولائی بروز جمعہ تمام ائمہ مساجد سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس روز اپنے جملہ شہداء کی یاد میں دُعائیہ مجالس کا انعقاد کیا جائے اور ان شہداء کے ایصال وثواب کے لیے اجتماعی فاتحہ پڑھی جائے۔ مورخہ 8؍جولائی اتوار ریاست گیر ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے اس روز قصبہ ترال میں شہید برہان مظفر وانی کے آبائی مزار شہداء پر جملہ شہدائے کشمیر کے حق میں خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے ایک عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔ادھر مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان کو حقیقت سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایسے بے بنیاد اور غیر اہم بیانات داغنا بھارت کی سیاسی قیادت کی غیر سنجیدگی کا عکاس اور واضح ثبوت ہے۔ مزاحمتی قیادت نے مسئلہ کشمیر کو ڈیڑھ کروڑ انسانی آبادی پر مشتمل ایک قوم کی تقدیر سازی کے لیے حقِ خودارادیت کی واگزاری کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام کی مرضی کے مطابق مسئلہ کشمیر کے آبرومندانہ حل کے بعد ریاستی عوام اپنی حکومت قائم کرکے عالمی سطح پر خود احتسابی اور تعمیر وترقی کا ایک قابل تقلید نمونہ پیش کرنے کی اہلیت اور قابلیت کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ مزاحمتی قیادت نے بھارت کی طرف سے ریاست پر 1947 ؁ء کے جبری قبضے کے نتیجے میں پچھلے 70برسوں کے معاشی، سیاسی اور سماجی استحصال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حکومت سازی کا مسئلہ قرار دینا بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے برصغیر ہندوپاک کی تازہ ترین تاریخ سے حد درجہ ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ مزاحمتی قیادت نے فوجی طاقت کے نشے اور فتور میں مبتلا بھارتی قیادت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جان بوجھ کر چشم پوشی کا ارتکاب کرنے کو پچھلے 70برسوں کے دوران کشمیری قوم کی عظیم اور بے مثال قربانیوں کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق قرار دینے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری قوم نے آج تک 6لاکھ انسانی نفوس کی شہادتیں، کھربوں روپئے مالیت کی تلف شدہ جائیدادوں، عفت مآب خواتین کی لٹی عصمتوں، انٹروگیشن مراکز میں لاکھوں قیدیوں کو ناقابل بیان حد تک تشدد اور جسمانی ایذا رسانیوں کو بھارت کے فوجی قبضے کے تحت کسی نام نہاد اچھی حکومت اور خود احتسابی کے لیے بطور قربانیوں کے پیش نہیں کیا گیا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے بھارت کے وزیر اعظم کو ریاست جموں کشمیر کی معاشی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی صلح دیتے ہوئے کہا کہ آج سے دو سو سال پہلے ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کا معیار زندگی بھارت کے تمام راجواڑوں سے بدرجہا بہتر اور بیشتر یورپی ممالک کے ہم پلہ تھا۔ آج اگر ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کو معاشی اعتبار سے بیروزگاری، غربت اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تو اس کے لیے صرف اور صرف بھارت کی طرف سے ریاستی عوام کے گردنوں پر استحصالی اور کٹھ پتلی حکمرانوں کو سوار کرنے کی وجہ ذمہ دار ہے۔ مزاحمتی قیادت نے ریاست کے زرخیز معاشی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے آبی ذخائر، جنگلات، یورنیم اور دیگر معدنیات سے مالا مال فلک بوس بہاڑی سلسلوں اور قدرتی حُسن کی بے مثال فراوانی ایسے معاشی خزینے ہمارے پاس موجود ہیں، جنہیں بھارت کے استحصالی دست بُرد سے اگر بچایا جائے تو جموں کشمیر کے لوگ نہ صرف معاشی طور خودکفیل، بلکہ بھارت کی دو ریاستوں کی کُل آبادی کو انسانی ہمدردی کے بناء پر مفت راشن اور روزگار فراہم کرنے کی امداد بھی دے سکتے ہیں۔ مزاحمتی قیادت نے بھارت کے وزیر اعظم کو ریاست کے ستم زدہ اور مظلوم لوگوں کو معاشی ترقی کا درس دینے سے اجتناب کئے جانے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے جسے معاشی ترقی کی لالچ دے کر زیادہ دیر تک ٹالا نہیں جاسکتا۔ مسئلہ کشمیر اچھی یا بُری حکومتیں قائم کرنے کا بھی مسئلہ نہیں ہے، جمہوری اصولوں کے تحت یہ کام لوگوں کے صوابدید پر چھوڑا جاتا ہے۔ مسئلہ کشمیر حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے، لہٰذا بھارت کے ارباب اقتدار کو جموں کشمیر کی چوتھی نسل کے سامنے کِسی اچھی حکومت یا نام نہاد معاشی ترقی کے نعرے پیش کرنے کی طفل تسلیوں سے پرہیز کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی تناظر میں حل کئے جانے کے حوالے سے اپنی ضد اور انا کو چھوڑ دینا چاہیے۔

Share This Article