بدنام زمانہ سری نگرجنسی اسکنڈل کا عدالتی فیصلہ مکمل

By
6 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سابق ڈی آئی جی بی ایس ایف سمیت5مجرمین کو10،10سال قیدکی سزا

سری نگر:۶،جون:کے این این / 2006میں ریاست کے حکومتی،سیاسی اورانتظامی ایوانوں میں ہلچل مچادینے والے سری نگرجنسی اسکنڈل کاحتمی فیصلہ سناتے ہوئے چندی گڑھ میں قائم سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بی ایس ایف کے سابق ڈی آئی جی اورریاستی پولیس کے ایک سابق ڈی ایس پی سمیت5مجرمین کودس ،دس سال قیدکی سزائیں سنادیں جبکہ مذکورہ عدالت نے سری نگرکے ایک تاجرسمیت2ملزمان کوبری الذمہ قراردیا۔خیال رہے سبینہ اسکنڈل نامی اس جنسی اسکنڈل میں شامل کل ملزمان کی تعداد56تھی ،جن میں اسوقت کے کچھ وزراء ،سینئرسیاسی لیڈر،سیول وپولیس انتظامیہ کے کچھ افسران اورمختلف شعبوں سے وابستہ سرکردہ افرادبھی شامل تھے ۔کے این این کے مطابق 2006کے موسم گرمامیں منکشف ہوئے بدنام زمانہ جنسی اسکنڈ ل کی ابتدائی تحقیقات پولیس نے شروع کی تاہم جلدہی یہ معاملہ مرکزی تفتیشی ادارے (سی بی آئی)کوسونپاگیا،اورسی بی آئی نے ملزمامن کی ایک لمبی چوڑھی فہرست مرتب کی ،جس میں اسوقت کے کچھ وزیر،سیاسی لیڈران ،سیول وپولیس انتظامیہ کے کچھ افسران اورمختلف شعبوں سے وابستہ سرکردہ افرادبھی شامل تھے۔ریاستی پولیس کے اشتراک سے سی بی آئی کی ٹیم نے ملزمان سے ایک ایک کرکے پوچھ تاچھ کی جبکہ جنسی استحصال کانشانہ بنائی گئی درجنوں لڑکیوں اورخواتین کے بیانات بھی قلمبندکئے گئے ۔بعدازاں سی بی آئی نے 56ملزمان کو آخری فہرست میں شامل رکھا اور اس کیس کو سرینگر سے چندی گڈھ منتقل کیاگیا، جہاں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے سرینگر جنسی اسکنڈل کی سماعت شروع کی۔ ابتدائی سماعت کے دوران سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے کچھ ملزمان کو بری کردیا جبکہ باقی سبھی ملزمان کیخلاف عائد الزامات کی روشنی میں کیس کی سماعت جاری رکھی گئی ۔ گزشتہ دنوں چندی گڈھ میں واقع سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بارہ سالہ پرانے اس جنسی اسکنڈل کیس کی سماعت کو سمیٹتے ہوئے مجرمین کی ایک آخری فہرست مرتب کی، جس میں بی ایس ایف کے سابق ڈی آئی جی کے سی پاڈھی ،ریاستی پولیس کے ایک سابق ڈی ایس پی وانکاؤنٹر ماہر محمد اشرف میر، شبیر احمد لاوے ، شبیر احمد لنگو اور مسعود احمد مقصود شامل تھے ۔ جبکہ سی بی آئی عدالت نے تین ملزمان بشمول ایک تاجر معراج الدین ملک اورسابق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل جموں وکشمیر انیل سیٹھی کو الزامات سے بری کردیا ۔ بدھ کے روز سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ریاستی پولیس کی جانب سے پیش کردہ چارج شیٹ ، جس میں یہ بتایاگیا کہ سیکس اسکنڈل کے ملزمان مجبوراوربے سہارا لڑکیوں کو محض 250روپے سے لیکر500دے کر ان کے ساتھ جنسی استحصال کیاکرتے تھے ، کی روشنی میں حتمی فیصلہ صادر کرتے ہوئے پانچ ملزمان بشمول سابق ڈی آئی جی بی ایس ایف، پولیس کے سابق ڈی ایس پی اورتین دیگر مجرمین کو دس دس سال قید کی سزا سنادی ۔بتایاجاتاہے کہ ان سبھی ملزمان کو رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ376کے تحت مجرم قرار دیاگیا تھاتاہم ملزمان کو سیکشن 5کا مرتکب نہیں پایاگیا کیونکہ ان پر انسانی اسمگلنگ کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق بارہ سالہ پرانے سرینگر جنسی اسکنڈل میں اصل ملزمان کی تعدادآخری مرحلے پر 9رکھی گئی تھی ، جس میں اسکنڈل کی سرغنہ خاتون بھی شامل تھی ۔ خیال رہے وادی میں12سال قبل2006میں بے نقاب ہوئے بدنام زمانہ سیکس سکینڈل کیس میں چندی گڑھ کی خصوصی عدالت نے سرحدی حفاظتی فورس کے سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل اور پولیس کے ایک ڈپٹی سپر انٹنڈنٹ کو مورود الزام ٹھہرایا ہے۔ مجرموں کیلئے4 جولائی کو سزا دینے کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔سرینگر کے حبہ کدل علاقے میں12سال قبل فحش خانہ چلنے کا انکشاف ہوا تھا،جس کے بعد بڑے پیمانے پر اس معاملے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے،اور اْس وقت کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے پولیس کی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم، جس کی سربراہی ایس ڈی پی او شہید گنج کررہے تھے،کی سربراہی میں تشکیل دی۔دوران تفتیش پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کو کئی اہم سراغ مل گئے ، جن میں کچھ فحش ویڈیوز، ایم ایم ایس اور لڑکیوں کی دلالی کرنے والے گروہ بھی شامل ہے۔اس سکینڈل میں ابتدائی طور پر 42لڑکیوں کے نام سامنے آئے تھے۔ ریاستی حکومت نے کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا جس نے دوران تحقیقات سیکس سیکنڈل کا پورا نیٹ ورک طشت از بام کیا اور اس ضمن میں گرفتاریاں عمل میں لائیں،جن میں اس وقت کی حکومت کے دو وزراء بھی شامل ہیں۔اسکے علاوہ پولیس کے اعلیٰ افسران کے نام بھی سامنے آئے تھے جن میں کچھ کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی تھی۔اس سکینڈل میں کئی افسران اور سیاست دانوں کے علاوہ تاجروں اور کچھ ہوٹل مالکان کے ناموں کاا فشاء ہوا تھا۔ اس حوالے سے جو چارج شیٹ عدالت میں پیش کیا گیا تھا،اس میں9ملزمان تھے،جبکہ شنوائی کے دوران ہی اس کیس کے اصل ملزم سبینہ، جو رہائی کے بعد کینسر کی مرض میں مبتلا ہوئی تھی اور انکے شوہر عبدالحمید بلا کی موت واقع ہوئی۔

Share This Article