بجلی کے سنگین بحران پر ایوان ِ اسمبلی میں ہنگامہ ،اپوزیشن کا واک آﺅٹ

سرینگ: حزب اختلاف نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ممبران اسمبلی نے وادی میں بجلی کے سنگین بحران پر وزیر بجلی ڈاکٹر نرمل سنگھ کو گھیرتے ہوئے ان پر الزامات کی بوچھاڑ کی اور زبردست ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کے بعد احتجاج کے بطور ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔اس موقعے پر ”کشمیر کو بجلی دو، بی جے پی کی سرکار میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے “ کے نعرے بلند کئے گئے جبکہ بعض حکمران ممبران نے بھی جموں میں بجلی کی نایابی کو لیکر وزیر بجلی کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے بڈگام آغا روح اللہ کے سوال کے جواب میں نائب وزیر اعلیٰ جن کے پاس بجلی کا محکمہ بھی ہے، نے کہا کہ اچھ گام بڈگام میں75 لاکھ روپے کی لاگت سے ایک رسیونگ اسٹیشن تعمیر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ آغا روح اللہ وزیر کے اس جواب سے مطمئن نہیں ہوئے اور ڈاکٹر نرمل سنگھ سے مخاطب ہوکر کہاکہ حکومت وادی کشمیر میں بجلی کی بلا خلل فراہمی کو یقینی بنانے میں مکمل طور ناکام ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں سخت ترین سردیوں کے بیچ بجلی بحران نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔

ایم ایل اے بڈگام نے محکمہ بجلی کے افسران پر الزام عائد کرتے ہوئے وزیر بجلی کو بتایا”آپ کے افسران آپ کو صحیح جانکاری فراہم نہیں کررہے ہیں ، آپ کو کشمیر جاکر بجلی سپلائی کی زمینی صورتحال کا جائزہ لینا چاہئے“۔ان کا کہنا تھا”پی ڈی ڈی محکمہ کی طرف سے جاری کیا گیا کٹوتی شیڈول غیر منصفانہ ہے، یہاں تک کہ صارفین کو شیڈول کے مطابق بھی بجلی فراہم نہیں کی جارہی ہے“۔آغا روح اللہ کے زوردار احتجاج کے ساتھ ہی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے بیشتر ممبران بھی اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوئے اور مختلف علاقوں میں بجلی کی ابتر صورتحال کے بارے میں ضمنی سوالات پوچھنے لگے۔

ان میں علی محمد ساگر، الطاف احمد کلو، مبارک گل، محمد امین بٹ، شیخ اشفاق جبار،جی ایم سروری اور عبدالمجید بٹ لارمی بھی شامل تھے۔اپوزیشن ممبران نے نائب وزیر اعلیٰ کو گھیر لیاا ور ان پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ یہاں تک کہ بعض حکمران ممبران نے بھی جموں میں بجلی کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیر سے جواب طلب کیا۔اس صورتحال کی وجہ سے جب ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہوا تو ڈاکٹر نرمل سنگھ نے یہ کہتے ہوئے احتجاجی ممبران کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ ریاست میں ضرورت کے مطابق بجلی دستیاب رکھنے کےلئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں جموں کو بجلی کی عدم دستیابی کا مسئلہ درپیش رہتا ہے اور اس کی وجہ ترسیل اور تقسیم کے نظام میں پائے جارہے کچھ مسائل ہیں۔ڈاکٹر نرمل سنگھ نے اپوزیشن ممبران پر الزام عائد کیا کہ وہ بجلی کے بحران کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔وزیر موصوف کے ان ریمارکس پر حزب اختلاف کے ممبران آگ بگولہ ہوگئے اور انہوں نے ”کشمیر کو بجلی دو، بی جے پی کی سرکار میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے “ کے زوردار نعرے بلند کئے جس کے نتیجے میں ایوان میں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔

اسی دوران لارمی اور شیخ اشفاق جبار احتجاج کرتے ہوئے ویل میں آگئے اور اسپیکر کی میز کے سامنے آکر کہا”اسپیکر ہمیں اس معاملے پر بات کرنے نہیں دے رہے ہیں“۔اسی ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کے بیچ ہی اپوزیشن ممبران احتجاج کے بطور ایوان سے واک آﺅٹ کرکے چلے گئے۔ کے ایم این

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے