بارہمولہ اوراسکے نواحی علاقوں میں HFMDبیماری کاپھیلاؤ

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

300سے زیادہ کمسن بچے مبتلاء
مرض جان لیوانہیں ،پرہیزواحتیاط علاج سے بہتر:ماہرمعالج

بارہمولہ:۳۱،مئی/ بارہمولہ اوراسکے نواحی علاقوں میں 10سال کی عمرسے کم 300سے زیادہ بچے ایک مخصوص قسم کے وائرس سے پھیلنے والی بیماری میں مبتلاء پائے گئے ہیں ۔ہاتھ پیراورمنہ کی بیماری جسے طبی اصطلاع میں HFMDکہاجاتاہے،کے شکارہوئے بچوں کوحالیہ کچھ مہینوں کے دوران ضلع اسپتال بارہمولہ علاج ومعالجہ کیلئے لایاگیا۔کے این این کے مطابق اسپتال ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ COXSACKIEنامی وائرس کی وجہ سے دس سال سے کم عمرکے بچے ہاتھ ،پاؤں اورمنہ میں مخوص قسم کی بیماریوں میں مبتلاء ہوجاتے ہیں ،اوریہ امراض ان بچوں میں اسی مہلک وائرس کی وجہ سے پھیل جاتاہے۔ماہرین طب کہتے ہیں کہ ’بچوں میں ہاتھ، پیر اور منہ کی بیماریاں وائرس کے سبب ہوتی ہیں جس کے سبب ہاتھوں اور پیروں میں آبلے پڑجاتے ہیں اور منہ کے اندر زخم ہوجاتا ہے‘۔بارہمولہ اسپتال میں تعینات امراض جلدکے ماہرمعالج ڈاکٹرامجدنے بتایاکہ السریاہرپینجینامنہ کی ایک انفیکشن ہے جوکہ وائرس کے سبب ہوتا ہے، اورکمسن بچوں کے منہ میں بدبویاعفونیت پیدا کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہCOXSACKIEنامی وائرس کی وجہ سے پیداہونے والے انفیکشن کی وجہ سے دس سال یااسے کم عمرکے بچوں کے منہ کی پشت پر چھوٹے لال یاسرخ دانے ظاہر ہوتے ہیں۔یہ دانے چھالوں کی شکل اختیارکرلیتے ہیں جوکہ جَلد ہی پھٹ جاتے ہیں، پھر زخم اور چھوٹے ا لسر رہ جاتے ہیں۔ ڈاکٹرامجدکامزیدکہناتھاکہ یہ السر بہت چھوٹے ہوتے ہیں،تقریباً2 تا 4 ملی میٹر یا ،8 انچ چوڑے،لیکن کمسن بچوں کیلئے بہت تکلیف دہ ہوسکتے ہیں اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے متاثرہ بچے کھانے پینے سے انکارکردیں۔ماہرین طب کہتے ہیں کہ COXSACKIEنامییہ وائرس بے جان چیزوں میں بھی زندہ رہ سکتا ہے، مثلاً کھلونے، ایک اورکمسن بچے تک پھیلانے کیلئے یہ کافی ہے۔انہوں نے بتایاکہ انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کیلئے اپنے اور اپنے بچے کے ہاتھوں کوکثرت سے دھوئیے، خاص کر درجِ ذیل مواقع پر ایسا کرنے کو یقینی بنائیے۔ڈاکٹرامجدکاکہناتھاکہ بار باربخارکا آنا، گلے کی خراش، اور عام طور پرکئی دنوں تک طبیعت بہتر محسوس نہ ہونے کے ساتھ دونوں ہرپینجینا اور ہاتھ ،پیر اور منہ کی بیماری شروع ہوسکتی ہیں دانے ظاہر ہونے سے پہلے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بچوں کی بھوک ختم ہوجائے اور بہت چڑچڑے ہوجائیں۔ممکن ہے کہ بڑے بچے سردرد، گلے کی خراش اور توانائی میں کمی کی شکایت کریں۔اُدھر معلوم ہواکہ حالیہ کچھ مہینوں کے دوران 300سے زیادہ کمسن اورشیرخواربچوں بچیوں کوبارہمولہ ضلع اسپتال بغرض علاج لایاگیا،اوران سبھی بچوں کوہاتھ پیراورمنہ کی بیماری یعنی HFMDمیں مبتلاء پایاگیا۔امراض جلدکے ماہرمعالج ڈاکٹرامجدکہتے ہیں کہ عمومی طورپراپریل مئی کے مہینوں میں COXSACKIEنامی وائرس کی وجہ سے کمسن بچے مخصوص انفیکشن میں مبتلاء ہوجاتے ہیں ۔تاہم انہوں نے تسلیم کیاکہ امسال COXSACKIEنامی وائرس کی وجہ سے بچوں میں یہ مہلک انفیکشن کچھ زیادہ ہی پھیل گیاہے۔ماہرمعالج کاکہناتھاکہ اس وائرس کی روکتھام کیلئے کوئی مخصوص قسم کاویکسین نہیں ہے تاہم احتیاطی اقدامات بروئے کارلاکراس بیماری کوپھیلنے سے روکاجاسکتاہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ گھروں اوراسکولوں کے اندرباہرصحت وصفائی رکھنے کیساتھ ساتھ ضروری ہے کہ کنبوں کے بڑے اورچھوٹے بچے صابن سے ہاتھ دھونے کی عادت اپنائیں نیزاگرکوئی بچہ اس بیماری یاانفیکشن میں مبتلاء ہوجاتاہے توحالت بہترہونے تک اسکواسکول نہ بھیجاجائے ۔ڈاکٹرامجدکاکہناتھاکہ COXSACKIEنامی وائرس کی وجہ سے چھوٹے بچوں میں پھیلنے والاانفیکشن اورمرض جان لیوانہیں ہے لیکن متاثرہ بچوں کواس مرض سے نجات دلانے اوراس وائرس کوپھیلنے سے روکنے کیلئے طبی ماہرین کے مشوروں پرعمل کرناانتہائی ضروری ہے۔

Share This Article