سری نگر:۳۱،مئی: عسکری قائدسیدصلاح الدین کے محبوس فرزندسیدشاہدیوسف کی ضمانتی درخواست دلی ہائی کورٹ نے خارج کردی ۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مبینہ حوالہ اسکنڈل 2011میں شامل ہونے کی پاداش میں قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے)نے لگ بھگ 7ماہ قبل یعنی24اکتوبر2017سیدشاہدیوسف کونئی دہلی میں اسوقت حراست میں لے لیاتھاجب مذکورہ ایجنسی نے شاہہدیوسف کوپوچھ تاچھ کیلئے طلب کیاتھا۔وسطی ضلع بڈگام کے علاقہ سوئیہ بگ سے تعلق رکھنے والے 42سالہ سیدشاہدیوسف جوکہ محکمہ زراعت میں بطورایگریکلچراسسٹنٹ کے تعینات تھے ، کوحراست میں لینے کے بعداین آئی اے نے 21اپریل 2018کواُس کیخلاف نئی دہلی کی عدالت میں چارج شیٹ زیردفعہ120-Bآئی پی سی اورغیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق قانون مجریہ1967کی دفعات13،17،18،20،21،38اور40کے تحت داخل کیا۔عدالت میں شاہدیوسف کیخلاف داخل کردہ چارج شیٹ میں این آئی اے نے بتایاکہ سال2011میں حوالہ نیٹ ورک کے ذریعے کشمیرمیں جنگجوؤں اورملک دشمن عناصرکیلئے بیرون ممالک سے رقومات پہنچانے کاایک اسکنڈل منکشف ہواتھا،اوراس میں 7افرادبشمول غلام محمدبٹ ،محمدصدیق گنائی ،غلام جیلانی للو،فاروق احمدڈگہ ،محمدمقبول پنڈت،اعجازاحمدبٹ اورسیدشاہدیوسف کوملوث پایاگیا،اوران سبھی سات ملزمان کیخلاف پہلے ہی عدالت میں چارج شیٹ داخل کیاگیاے۔این آئی اے نے عدالت کوبتایاکہ7ملزمان میں سے 5شمول شاہدیوسف اسوقت زیرحراست ہیں جبکہ 2ملزمان محمدمقبول پنڈت اوراعجازاحمدبٹ گرفتاری سے بچنے کیلئے روپوش ہیں ۔این آئی اے کاعدالت میں کہناتھاکہ حوالہ اسکنڈل2011کے سلسلے میں محمدصدیق گنائی ،غلام جیلانی للواورفاروق احمدڈگہ کوپہلے ہی مجرم قراردیاگیاہے۔دریں اثناء گزشتہ7ماہ سے تہاڑجیل میں نظربندسیدشاہدیوسف کی جانب سے ایک وکیل نے دلی ہائی کورٹ میں ضمانتی عرضی دائرکی تھی ،جس میں عدالت سے استدعاکی گئی تھی کہ شاہدیوسف کوضمانت پررہاکیاجائے ۔تاہم جمعرات کودلی ہائی کورٹ نے سیدشاہدیوسف کی ضمانتی درخواست کونامنظورکردیا۔

