سری نگر:٥،جولائی :کے این این/ نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ این سی دور کے دو اسپیکر دل بدلی قانون کے تحت بھاجپا کے 7باغی ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار نہ دینے پر جوابدہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے موجودہ سیاسی بحران میں اسمبلی کو تحلیل کرکے ہی ’ہارس ٹریڈنگ ‘ کو روکا جاسکتا ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک (کے این این ) کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکر یٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ ’ہارس ٹریڈ نگ ‘ کو روکنے کے حوالے سے نیشنل کانفرنس کا موقف واضح ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے موجودہ سیاسی بحران میں اسمبلی کو تحلیل کرکے ہی ’ہارس ٹرینگ ‘ کو روکا جاسکتا ہے ۔ان کا کہناتھا کہ ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کیلئے اسمبلی کو تحلیل کرنا ناگزیر ہے جبکہ نیشنل کانفرنس ہارس ٹریڈنگ پر یقین نہیں رکھتی ۔علی محمد ساگر نے کہا کہ دل بدلی قانون کو نیشنل کانفرنس کے دور اقتدار میں ریاست میں متعارف کرایا گیا اور نیشنل کانفرنس نے ہی اس قانون کو مضبوط کیا ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ سنہ2011میں کونسل انتخابات کے دوران ہوئی کراس ووٹنگ اور بھاجپا کی جانب سے6ممبران اسمبلی کے خلاف دل بدلی قانون کے تحت نا اہل قرار دیئے جانے کی سفارش کو آپ کی پارٹی کے دو اسپیکروں نے رد کیوں کیا ؟یا کوئی کارروائی نہیں کی ،تو علی محمد ساگرنے کہا ’قانون ساز اسمبلی کا جب کوئی اسپیکر منتخب کیا جاتا ہے ،تو وہ کسی پارٹی کا اسپیکر نہیں ہوتا ہے ‘۔علی محمد ساگر نے کہا’اُس وقت قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر نے کیا فیصلہ لیا یا غلط یا صحیح لیا ،وہ آپ کے سامنے جوابدہ ہے ‘۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس کا ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے موقف واضح ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ریاست میں کوئی سرکار نہیں بنی چاہئے بلکہ جمہوری ضابط کے تحت ہی جموں وکشمیر میں سرکار تشکیل دی جانی چاہئے اور یہی نیشنل کانفرنس کا موقف ہے ۔ان کا کہناتھا کہ اُس وقت کے اسمبلی اسپیکر نے بھاجپا کے ممبران اسمبلی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ،اِ س کا نیشنل کانفرنس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔

