ایس پی۔ بی ایس پی گٹھ بندھن سے باہر ہوئی کانگریس، سیٹوں کا فارمولہ طے!۔

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی بہتر کارکردگی کے بعد یہ مانا جا رہا تھا کہ یوپی میں بننے والے گٹھ بندھن میں اس کی دعویداری مضبوط ہو گی۔ لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے لوک سبھا انتخابات کے لئے بننے والے گٹھ بندھن سے کانگریس کو باہر رکھنے کا فیصلہ تقریبا کر لیا ہے۔ دونوں ہی جماعتوں نے نشستوں کی تقسیم کا فارمولہ بھی طے کر لیا ہے اور اس کا رسمی اعلان مایاوتی کی سالگرہ یعنی 15 جنوری کو کیا جائے گا۔

سیٹوں کی تقسیم کے جس فارمولہ پر رضامندی ہوئی ہے اس کے مطابق اس گٹھ بندھن میں اجیت سنگھ کی آر ایل ڈی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بی پی ایس 38، ایس پی 37 اور آر ایل ڈی تین نشستوں پر بی جے پی کے خلاف مورچہ لے گی۔ حالانکہ انتخابی نتائج آنے کے بعد گٹھ بندھن کی گنجائش برقرار رہے، اس کے لئے گٹھ بندھن کانگریس کے گڑھ امیٹھی اور رائے بریلی میں اپنا امیدوار نہیں اتارے گا۔ ساتھ ہی ایس پی اپنے کوٹے کی کچھ سیٹیں بھی دیگر چھوٹی پارٹیوں جیسے نشاد پارٹی اور پیس پارٹی کو دے سکتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سیٹوں کی تقسیم کے اس فارمولہ پر دونوں پارٹیوں کے اعلیٰ رہنماوں میں اتفاق رائے ہو چکا ہے۔

کانگریس صدر راہل گاندھی کو گٹھ بندھن کا وزیر اعظم کا چہرہ ماننے سے اکھلیش یادو نے انکار کر دیا ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ مہا گٹھبندھن کو لے کر صرف بات چل رہی ہے۔ شردپوار، ممتا بنرجی اور چندربابو نائیڈو سبھی لوگ اس کے لئے کوشش کر چکے ہیں۔ ضروری نہیں کہ سبھی پارٹیوں کے لوگ ایک نام پر متفق ہو جائیں۔

Share This Article