سری نگر:٦،جولائی :/ قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے کچھ ماہ کے وقفہ بعدفنڈنگ کیس کے سلسلے میں کشمیری مزاحمتی لیڈروں کیخلاف پھراپناآپریشن شروع کردیا۔ گزشتہ برس اگست کے مہینے میں7حریت لیڈروں اورایک کشمیری تاجرسمیت10افرادکوگرفتارکرنے کے بعداین آئی اے کی ایک ٹیم نے سری نگرمیں اچانک کارروائی عمل میں لاکردُختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو2قریبی رفقاء فہمیدہ صوفی اورناہدہ نصرین سمیت اپنی تحویل میں لینے کے بعدجمعہ کی صبح سری نگرسے نئی دہلی منتقل کیاجہاں تینوں خواتین مزاحمتی لیڈروں کوپٹیالہ ہائوس کورٹ میں پیش کرنے کے بعداین آئی اے نے ان کا10روزہ ریمانڈحاصل کیا۔خیال رہے سات حریت لیڈروں اورکشمیری تاجرکیخلاف دلی کی خصوصی عدالت میں پیش کردہ چارج شیٹ میں این آئی اے نے پہلے ہی آسیہ اندرابی کوملزم قراردیاتھا۔کے این این کومعلوم ہواکہ ایک غیرمعمولی اقدام کے بطورقومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اورموصوفہ کی دوقریبی رفقاء فہمیدہ صوفی اورناہدہ نصرین کوسری نگرسینٹرل جیل سے اپنی تحویل میں لیا۔بتایاجاتاہے کہ این آئی اے نے آسیہ اندرابی اوراُنکی دوساتھیوں کومبینہ فنڈنگ کیس اورتینوں کیخلاف بغاوت سے متعلق درج ایک کیس کے سلسلے میں گرفتارکرنے کے بعدجمعہ کی صبح سر ینگرسے نئی دہلی منتقل کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق این آئی اے نے آسیہ اندرابی کیخلاف 26اپریل کوجوکیس درج کیاہے ،اُس میں یہ الزام لگایاگیاہے کہ موصوفہ جموں وکشمیرکوبھارت سے الگ کرنے کاکام کرنے کیساتھ ساتھ کشمیری نوجوانوں کوبھارت کیخلاف جہادکیلئے اُکساتی رہتی ہیں جبکہ موصوفہ کیخلاف درج کیس میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ آسیہ اندرابی نے مارچ کے مہینے میںیوم پاکستان منایا،اوراس موقعہ پرپاکستان کاقومی ترانابھی گایاگیا۔دریں اثناء جمعہ کونئی دہلی پہنچانے کے بعداین آئی اے نے دختران ملت کی سربراہ اوراُنکی دونوں رفقاء کودہلی کے پٹیالہ ہائوس کورٹ میں پیش کیا،جہاں سے این آئی اے نے تینوں کا10روزہ ریمانڈحاصل کیا۔پٹیالہ ہوئس کورٹ نے این آئی اے کوآسیہ اندرابی ،فہمیدہ صوفی اورناہدہ نصرین سے16جولائی تک پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت د ے دی کے این این

