حریت(ع) کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے ’او آئی سی ‘ کے فیصلے کو انتہائی حوصلہ افزاءاور تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انصاف پسند اقوام و ممالک اور دنیا بھر کے عدل و انصاف پر یقین رکھنے والے لوگوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی ہوئی ہے اور امریکہ بلکل الگ تھلگ ہوگیا ہے۔
حریت(ع) کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی تنظیم’او آئی سی ‘کے ہنگامی اجلاس میں عالم اسلام کے مشترکہ موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے متفقہ طور پر یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دیئے جانے اور امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کو غیرقانونی قرار دئےے جانے پر اپنی اور جموں کشمیر کے عوام کی طرف سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ’او آئی سی ‘ کی جانب سے اسے ایک جرات مندانہ فیصلہ قرار دیا ہے اور مظلوم فلسطینیوں کی بھر پور حمایت کے عزم کے اظہار پر ’او آئی سی ‘ کو دلی مبارک باد پیش کی ہے۔
میرواعظ نے ’او آئی سی ‘ کے فیصلے کو انتہائی حوصلہ افزاءاور تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انصاف پسند اقوام و ممالک اور دنیا بھر کے عدل و انصاف پر یقین رکھنے والے لوگوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی ہوئی ہے اور امریکہ بلکل الگ تھلگ ہوگیا ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور یروشلم کو اسرائیل کا دارالسلطنت قرار دیا ہے جوجارحانہ فیصلہ ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں اور عالم اسلام کے لئے ہر گز قابل قبول نہیں ہے۔
میرواعظ نے اس توقع کا اظہار کہا کہ’او آئی سی ‘ اورسب سے مقدم بین الاقوامی تنظیم یعنی اقوام متحدہ فلسطین کے دیرینہ مسئلے کا منصفانہ حل نکالنے کے ساتھ ساتھ جموں کشمیرکے 70 سالہ پُرانے مسئلہ کو بھی اقوام متحدہ کی قرارداوں کی روشنی میں حق خود ارادیت کی بنیاد پر حل تلاش کرنے کےلئے اپنی مثبت کوششیں بروئے کار لاکر اس پورے خطے میں سیاسی استحکام امن و سلامتی اور تعمیر و ترقی کو یقینی بنائیں گے۔

