14اپریل کے بعد لاک ڈان کو جاری رکھنے کیلئے مرکزی سرکار کی جائزہ کمیٹی متحرک

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
SRINAGAR, 23 (UNI) COVID-19: A deserted view of Residency road in Srinagar with all business activities closed as lockdown continued with strict restrictions and security forces sealed all measures roads to cut the moment of people as a measure to contain the spread of Coronavirus in the summer capital Srinagar on Thursday. UNI SRN PHOTO 2.

سرینگر/04اپریل/سی این آئی// حکومت 14 اپریل کو ختم ہونے والے لاک ڈاؤن کا جائزہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ تاہم ، تین سینئر عہدیداروں نے کہا کہ اس کا انحصار ہر ریاست کی صورتحال کے تخمینہ پر ہے اور ان اضلاع میں لاک ڈاون اور پابندیاں جاری رکھی جائیں گی جہاں کورونا وائرس کا اثر جاری رہے گا۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق ہفتہ کے روز جنوبی ایشیاء میں کورونا وائرس (Coronavirus) کے نئے کیسز کی تعداد 6000 کے قریب پہنچ گئی۔ کچھ شہروں میں حکام نے لاک ڈاؤن سے منسلک پابندیوں کو سخت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اس وبا پر قابو پانے کے لئے اس کی مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر صحت راجیش ٹوپے نے کہا ، ‘اگر لوگ قوانین پر سنجیدگی سے عمل نہیں کرتے ہیں اور معاملات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے تو پھر لاک ڈاؤن کو بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو سکتا ہے۔ ممبئی اور مہاراشٹر کے شہری علاقوں میں اسے دو ہفتوں تک بڑھایا جاسکتا ہے‘۔اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اس ہفتے مرحلہ وار انداز میں ملک تین ہفتوں کے لاک ڈاؤن سے باہر آجائے گا۔ جنوبی ایشیاء میں 2،902 معاملات میں ہندوستان سب سے زیادہ کورونا سے متاثر رہا جس میں سے 68 کی موت ہوچکی ہے۔مہاراشٹرا میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیماری کے 537 واقعات کی تصدیق ہوئی ہے اور 26 افراد کی موت ہوئی ہے۔حکومت 14 اپریل کو ختم ہونے والے لاک ڈاؤن کا جائزہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ تاہم ، تین سینئر عہدیداروں نے کہا کہ اس کا انحصار ہر ریاست کی صورتحال کے تخمینہ پر ہے اور ان اضلاع میں لاک ڈاون اور پابندیاں جاری رکھی جائیں گی جہاں کورونا وائرس کا اثر جاری رہے گا۔گذشتہ ہفتے جنوبی ایشیاء میں کووڈ۔ 19 کے معاملات کی تعداد دوگنا سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ ماہرین صحت نے اس خطے میں ایک وبا کا انتباہ دیا ہے جو دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ ہے۔ یہ پہلے سے ہی صحت عامہ کے کمزور نظاموں کو اور بھی متاثر کرسکتا ہے۔

Share This Article