طالبان کی حمایت کو حاصل کرنا لازمی:اینٹونی بلنکن

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
U.S. Secretary of State Antony Blinken delivers remarks following talks on the situation in Afghanistan, at the State Department in Washington, U.S., August 30, 2021. REUTERS/Jonathan Ernst/Pool

سری نگر:۳۱، اگست: امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ طالبان کی قانونی حیثیت یا حمایت کو حاصل کرنا پڑے گا اور یہ امریکہ طالبان کو اپنے عہد پر قائم رکھے گا کہ وہ لوگوں کو آزادانہ طور پر افغانستان سے نکلنے دیں۔بلنکن نے یہ بیان طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد دیا۔وہیں امریکہ نے اب اپنا افغان سفارتی مشن قطر منتقل کر دیا ہے، جس نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔کشمیرنیوزسروس (کے این ایس )مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق انخلا کے آپریشن کی نگرانی کرنے والے جنرل فرین میکانزی کے مطابق افغانستان سے ایک لاکھ23 ہزار عام شہریوں کا انخلا کو یقینی بنایا گیا لیکن طالبان کے کابل پر کنٹرول سنبھالنے سے ایک دن قبل 14 اگست سے اب تک امریکہ نے کابل سے79ہزار لوگوں کو نکالا جن میں6ہزار امریکی شہری بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ امریکہ اور طالبان نے گزشتہ برس 29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔معاہدے کے تحت امریکہ نے افغان جیلوں میں قید طالبان جنگجوؤں کی رہائی سمیت مئی2021 تک افغانستان سے امریکی اور اتحادی فوج کے مکمل انخلا پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن صدر جو بائیڈن نے رواں سال کے شروع میں امریکی فوجی کے انخلا کے لیے 31 اگست کی آخری تاریخ مقرر کی تھی۔امریکی فوج کے انخلا سے قبل ہی طالبان نے برق رفتاری سے افغانستان کے متعدد صوبوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا اور 15 اگست کو ملک کے دارالحکموت کابل میں داخل ہونے کے ساتھ ہی صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار ہوگئے تھے۔

Share This Article