جموں کشمیر میں کووڈ 19کے معاملات میں اُچھال کے بیچ ؛ 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی ٹیکہ کاری کیلئے آن لائن رجسٹریشن شروع

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
FILE PHOTO: A woman holds a small bottle labeled with a "Vaccine COVID-19" sticker and a medical syringe in this illustration taken April 10, 2020. REUTERS/Dado Ruvic/Illustration/File Photo

سرینگر/30اپریل: جموں کشمیر میں 18سال سے زائد عمر کے لوگوں کیلئے ویکسینیشن کیلئے آج لائن رجسٹریشن شروع ہوگئی ہے ۔ ایک طرف جموں کشمیر میں کوروناوائرس کے معاملات میں بے حد اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے تاہم دوسری طرف زیادہ سے زیادہ لوگ ویکسین لگانے کیلئے طبی مراکز کا رُخ کررہے ہیں جبکہ 18سال سے زائد کے عمر والے افراد کو یکم مئی سے ٹیکے لگائیں جائے گے۔ کرنٹ نیو زآف انڈیا کے مطابق ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر یوٹی میں بھی کووڈ کی دوسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ جموں کے ساتھ ساتھ سرینگر میں بھی حالیہ ایام میں کووڈ کے معاملات میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ ادھر اس اضافہ کے بیچ جموں و کشمیر یو ٹی میں انتظامیہ نے اٹھارہ سال سے اوپر عمر والے لوگوں کی ٹیکہ کاری کیلئے رجسٹریشن کا عمل شروع کیا ہے ، جس دوران پایا گیا کہ سینکڑوں لوگ کووڈ سے بچنے کیلئے آن لائن اپنا رجسٹریشن کرا رہے تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر یوٹی میں نہ صرف تیزی سے کووڈ کی دوسری لہر پھیل رہی ہے۔ بلکہ شرح اموات میں بھی ہوش ربا اضافہ ہورہا ہے۔ پچھلے تین دنوں کے اندر جموں و کشمیر یوٹی میں تقریبا اسی لوگوں کی کووڈ سے موت ہوئی ، جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یوٹی میں بھی کووڈ کی یہ دوسری لہر مہلک ثابت ہورہی ہے۔اب جب کہ حکومت نے ایک اور ایج گروپ کی ٹیکہ کاری کرنے کا عمل شروع کیا ہے تو بڑھتے کووڈ معاملات کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں ٹیکہ لگانے کیلئے رجسٹریشن کرا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پہلے دو مرحلوں کے دوران بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے کووڈ ویکسین لگوائی تھی۔ جب کہ طبی ماہرین یہ بات پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ کووڈ کا ٹیکہ لگانے کے بعد بھی انسان وائرس کا شکار ہوسکتا ہے۔ تاہم اس کو یہ وائرس زیادہ متاثر نہیں کر پائے گا اور اسے اسپتال میں بھی بھرتی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اب جب کہ حکومت نے پہلے ہی یہ اعلان کردیا ہے کہ ویکسین بالکل مفت ہوگی تو اس وجہ سے بھی لوگ بڑی تعداد میں ٹیکہ کاری کے لئے رجسٹریشن کرا رہے ہیں۔ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ بڑی بے صبری سے اس دن کا انتظار کر رہے تھے کہ کب انھیں بھی کووڈ کا ٹیکہ لگے۔ اروند کول نامی ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ وہ خود کووڈ کا ٹیکہ لگوا چکے ہیں۔ تاہم اب وہ اپنے بچوں کو کووڈ ٹیکہ لگوانا چاہتے ہیں۔ادھر محکمہ صحت کے فائنانشیل کمشنر اتل ڈلو کا کہنا تھا کہ کووڈ ٹیکہ کاری کی اس تیسری مہم کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور انھیں امید ہے کہ باقی دو مرحلوں کی طرح اس مہم میں بھی لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔

Share This Article