ماہ مارچ کے 16دن گزرجانے کے باوجود بجلی کٹوتی شیڈول میں کوئی کمی نہیں کی گئی

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/17مارچ: راوں ماہ کے 16 دن گزرجانے کے باوجود بھی بجلی کٹوتی شیڈول میں کوئی کمی نہ کرنے پر صارفین بجلی نے محکمہ پی ڈی ڈی کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سیزن میں بارش اور بھاری برفباری کے نتیجے میں وادی کشمیر کے تمام آبی ذخائر میں پانی کافی مقدار میں بڑھ گیا ہے تاہم بجلی کی کٹوتی میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ماہ مارچ کے 16روز گرزرجانے کے باجود بھی محکمہ بجلی کی جانب سے بجلی کٹوتی شیڈول میں کوئی کمی نہیں کی گئی ۔ صارفین نے کہا ہے کہ محکمہ بجلی کی جانب سے جو کٹوتی شیڈول ماہ نومبر جاری کیا گیا ہے آج بھی اُسی شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں بجلی صارفین کو شدیدمشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔ صارفین نے کہا ہے کہ محکمہ بجلی کی کٹوتی شیڈول میں کوئی نہ کرنا صارفین بجلی کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مارچ کے ابتدائی دنوں سے ہی بجلی کٹوتی شیڈول میں کمی ہوتی تھی تاہم اس سیزن میں بجلی کی کٹوتی شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ۔صارفین کے مطابق بجلی کی ناپیدی کی وجہ سے صارفین کو شدید دشواریاں پیش آرہی ہے ۔ انہوںنے محکمہ بجلی کے چیف انجینئر اور سیکریٹری بجلی سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کٹوتی شیڈول میں فوری طور پر کمی لائی جائے اور نیا کٹوتی شیڈول جاری کیا جائے ۔ ادھر تاجروں نے کہا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کے کاروبار پر کافی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اگر محکمہ بجلی کٹوتی شیڈول میں کمی نہیں لائے گا تو تاجر برادری کوئی راست اقدام اُٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ پر عائد ہوگی۔ واضح رہے کہ وادی کشمیر میں موسم سرماء شروع ہونے سے پہلے ہی محکمہ بجلی کی جانب سے صارفین کو فراہم کی جانے والی بجلی میں کٹوتی شروع کی جاتی ہے جس کے تحت میٹر والے علاقوں اور غیر میٹر والے علاقوں کیلئے الگ الگ بجلی کی فراہمی اور بجلی کی کٹوتی ہوتی ہے ۔

Share This Article