فرانس میں مسلمانوں پر پابندیاں اورنگرانی سخت کرنے کا قانون منظور؛ بچوں کی تعلیم اور جبری شادی وغیرہ کی روک تھام کرنے میں مدد لی جائے گی

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Niqab veiled woman, Hind, 31, poses in front of the French National Assembly to protest against France's ban on wearing full-face niqab veils in public, on April 20, 2011 in Paris. French officials estimate that only around 2,000 women, from a total Muslim population estimated at between four and six million, wear niqabs, which are traditional in parts of Arabia and South Asia. AFP PHOTO / MEHDI FEDOUACH (Photo credit should read MEHDI FEDOUACH/AFP/Getty Images)

سرینگر/17فروری: فرانسیسی اسمبلی کے 347 ارکان نے اس قانون کے حق میں اور 151 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا جب کہ 65 اراکین ایوان سے غیر حاضر رہے۔اس کے ذریعے مذہبی تنظیموں کی کڑی نگرانی، تشدد کے واقعات کو جواز فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی، عام اسکولوں سے ہٹ کر اداروں میں بچوں کی تعلیم اور جبری شادی وغیرہ کی روک تھام کرنے میں مدد لی جائے گی تاہم قانون سازی میں ان اقدامات کو ’’اسلام ازم‘‘ یا ’’اسلامی علیحدگی پسندی‘‘ کے تدارک سے منسلک کیا گیا ہے۔اس قانون سازی کے بعد خصوصا فرانس میں مساجد، ان کے انتظاماتا چلانے والی تنظیموں اور بچوں کی گھر میں تعلیم سمیت مسلمانوں کی کڑی نگرانی کے لیے ریاستی اداروں کو کئی اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق فرانس میں انتہا پسندی کی روک تھام کے نام پر مسلمانوں کے خلاف سخت پابندیوں اور کڑی نگرانی کے لیے قانون منظور کرلیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے اس بل کا مقصد بظاہر یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعے مذہبی تنظیموں کی کڑی نگرانی، تشدد کے واقعات کو جواز فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی، عام اسکولوں سے ہٹ کر اداروں میں بچوں کی تعلیم اور جبری شادی وغیرہ کی روک تھام کرنے میں مدد لی جائے گی تاہم قانون سازی میں ان اقدامات کو ’’اسلام ازم‘‘ یا ’’اسلامی علیحدگی پسندی‘‘ کے تدارک سے منسلک کیا گیا ہے۔اس قانون سازی کے بعد خصوصا فرانس میں مساجد، ان کے انتظاماتا چلانے والی تنظیموں اور بچوں کی گھر میں تعلیم سمیت مسلمانوں کی کڑی نگرانی کے لیے ریاستی اداروں کو کئی اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جماعت نے اس قانون سازی کے لیے زور و شور سے مہم چلائی جس کے نتیجے میں فرانسیسی قومی اسمبلی کے 347 ارکان نے اس قانون کے حق میں اور 151 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا جب کہ 65 اراکین ایوان سے غیر حاضر رہے۔فرانسیسی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں کی جانب سے ایسے مجوزہ قوانین کی مخالفت کی گئی تھی جب کہ دوسری جانب دنیا کے 13 ممالک سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی 36 غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق میں اس قانون سازی اور فرانس میں مسلمان مخالف اقدامات کے خلاف اپیل دائرکر رکھی ہے۔دنیا بھر کی نمایاں حقوق انسانی کی تنظیموں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ فرانس میں مسلمانوں کے خلاف دو دہائیوں سے جاری ریاستی اقدامات روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ان 36 تنظیموں کے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی سے متعدد بنیادی حقوق سلب کرلیے گئے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ موجودہ قانون سازی کے ذریعے فرانس نے اپنے طرز کے سیکیولرزم (لیست) کو ’ہتھیار بند‘ کرلیا ہے اور مسلمانوں کی سیاسی و مذہبی سرگرمیوں میں ریاستی مداخلت کا جواز فراہم کیا جارہا ہے۔ان تنظیموں نے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ ایسی قانون سازی کے نفاذ کو روکنے کے لیے مداخلت کریں کیوں کہ فرانس کے قانون میں اس امتیازی سلوک سے بچاو کا کوئی موثر طریقہ دستیاب نہیں ہے۔دوسری جانب اسمبلی میں قانون کا دفاع کرتے ہوئے انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لے پین نے کہا ہے کہ ’’چند اسلام پسندوں کی شخصی آزادیوں کو محفوظ کرنے کے لیے اکثریت کی آزادیوں میں تبدیلیاں نہیں کی جاسکتیں۔‘‘واضح رہے کہ فرانس میں 50 لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ماضی میں فرانسیسی نوآبادیات رہنے والے افریقی ملک الجیریا سے ہے۔فرانس کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مختلف قوانین ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں تاہم گذشتہ برس توہین آمیز خاکوں کی اسکول میں تشہیر کرنے والے استاد کے قتل کے بعد سے فرانس میں اسلام کی مخالفت کی ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے اور یہ قانون سازی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

Share This Article