ایرانی صدر سے امریکی نومنتخب صدر سے کافی امیدیں وابستہ؛ بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپس آنا چاہیے: حسن روحانی

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Democratic U.S. presidential nominee and former Vice President Joe Biden takes part in an outdoor town hall meeting in Scranton, Pennsylvania, U.S. September 17, 2020. REUTERS/Jonathan Ernst

سرینگر/09نومبر: ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے میں واپس آ جائیں۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق حسن روحانی نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے پاس اب ماضی کی غلطیاں سدھارنے اور عالمی معاہدوں کی پاسداری کا موقع ہے۔خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے دوران امریکہ اور ایران کے تعلقات میں تناو¿ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے 2018 میں الگ ہو گئے تھے جس کے بعد ایران پر پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔حسن روحانی نے مزید کہا کہ تمام تر امریکی دباو¿ اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران کے عوام نے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔اتوار کو ایک ٹوئٹ میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ نئی بائیڈن انتظامیہ، ایران سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے طرز عمل کو ترک کرتی ہے یا نہیں۔ایران پر امریکی پابندیاں عائد ہونے سے ایران کی معیشت کو نقصان پہنچا تھا جب کہ کرونا وبا کے باعث بھی اس کی معاشی صورتِ حال دگرگوں ہے۔رواں سال کے آغاز پر بھی دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور معاملات جنگ کی نہج پر پہنچ گئے تھے۔خیال رہے کہ جو بائیڈن ا±س وقت نائب صدر تھے جب 2015 میں امریکہ نے دیگر پانچ عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں پابندیاں نرم کرنے کے عوض جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی شرط تھی۔بائیڈن مختلف مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ دوبارہ اس معاہدے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

Share This Article