22ستمبر کو دن اور رات کی لمبائی یکساں رہی؛ موسم خزاں کا آغاز، زمین کے نصف کرے میں بہار شروع

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
SRINAGAR, MAY 5 (UNI) COVID-19: A deserted view of tourist hub Boulevard road on the banks of famous Dal Lake in Srinagar amid strict lockdown to combat novel Coronavirus pandemic in Kashmir valley on Monday. UNI SRN PHOTO 6.

سرینگر/22ستمبر/سی این آئی// آج یعنی 22 ستمبر 2020 کے روز نہ صرف دن اور رات کی لمبائی برابر ہے بلکہ ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق شام 6 بج کر 30 منٹ پر زمین کے شمالی نصف کرے میں خزاں کا آغاز بھی ہوجائے گا۔ ایسا ہر سال ہوتا ہے اور یہ موقع ’’اعتدالِ خریفی‘‘ (Autumnal Equinox) کہلاتا ہے۔ البتہ ٹھیک اسی وقت زمین کے جنوبی نصف کرے میں بہار کی ابتداء ہوجائے گی۔یاد رہے کہ ہمارا سیارہ زمین اپنے محور پر 23.45 ڈگری جھکا ہوا ہے جس کے باعث یہاں پورے سال میں چار موسم یعنی سردی، گرمی، خزاں اور بہار ہوتے ہیں۔ اسی جھکاؤ کی وجہ سے زمین کے شمالی نصف کرے میں جو موسم ہوتا ہے، اس کا بالکل اْلٹ موسم جنوبی نصف کرے میں ہوتا ہے۔فلکیات (ایسٹرونومی) کے نقطہ نگاہ سے بات کریں تو ہر سال موسموں کی تبدیلی بھی چار مرحلوں میں ہوتی ہے۔پہلا: اعتدالِ ربیعی (Vernal Equinox) جسے فلکیاتی اعتبار سے ’’موسمِ بہار کا آغاز‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس روز رات اور دن کی لمبائی برابر ہوتی ہے۔ اس سال یہ موقع پاکستانی وقت کے مطابق 20 مارچ کو صبح 8 بج کر 49 منٹ پر آیا تھا۔دوسرا: انقلابِ گرما (Summer Solstice) جسے زمین پر موسمِ بہار کا نقطہ آغاز قرار دیا جاتا ہے۔ یہ سال کا سب سے طویل دن اور مختصر ترین رات ہوتی ہے۔ یہ موقع اس سال 21 جون کی صبح 4 بجکر 43 منٹ پر آتا تھا۔تیسرا: اعتدالِ خریفی (Autumnal Equinox) یعنی ’’خزاں شروع ہونے کا موقع‘‘ جس کی تفصیلات اس خبر کی ابتداء میں بیان کی گئی ہیں۔چوتھا: انقلابِ سرما (Winter Solstice) کہ جب سال کی سب سے لمبی رات اور سب سے چھوٹا دن ہوتا ہے۔ فلکیات میں یہی وقت موسمِ سرما کا آغاز بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس سال کا انقلابِ سرما معیاری وقت کے حساب سے 21 دسمبر کی سہ پہر 3 بج کر 1 منٹ پر واقع ہوگا۔قارئین کی مزید دلچسپی کیلیے بتاتے چلیں کہ ’’اعتدال‘‘ وہ مواقع ہوتے ہیں جب سورج آسمانی خطِ استوا (Celestial Equator) سے گزرتا ہے جبکہ ’’انقلاب‘‘ وہ مواقع ہیں کہ جب سورج اپنے سالانہ راستے (طریقِ شمس) پر حرکت کرتے دوران آسمانی خطِ استوا سے سب سے زیادہ دوری پر چلا جاتا ہے۔جیسا کہ شروع میں بتایا جاچکا ہے، زمین کے شمالی نصف کرے میں جو موسم ہوتا ہے، جنوبی نصف کرے میں اس کا اْلٹ موسم ہوتا ہے۔ (یہی وجہ ہے کہ جنوری کے مہینے میں ہندوستان ،پاکستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال ،بھوٹان سمیت دیگر شمالی ممالک میں سردی پڑ رہی ہوتی ہے تو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ میں شدید گرمی ہوتی ہے۔)اسی بات کے پیشِ نظر اب انہیں بالترتیب ’’مارچ کا اعتدال، جون کا انقلاب، ستمبر کا اعتدال اور دسمبر کا انقلاب‘‘ کہا جانے لگا ہے۔ (سی این آئی )

Share This Article