کورونا وائرس کے 20 ہزار سال قبل بھی تباہی پھیلانے کا انکشاف

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/25جون: ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس 20 ہزار سال قبل بھی وار کرچکا ہے۔ایسے ثبوت ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن کے مطابق کورونا وائرس مشرقی ایشیاء میں تباہی پھیلا چکا ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق ماہرین حیاتیات کہتے ہیں کہ وباء نے کئی سالوں تک خطے کو جکڑ کر رکھا تھا اور کورونا وائرس نے لوگوں کے ڈی این اے میں ارتقائی نقوش چھوڑے ہیں۔ایری زونا یورنیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق اس دوران کورونا انفیکشن کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والے جین بھی تیزی سے پھیلے، وہ جین آج کے وبائی مرض کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر اینارڈ کا کہنا ہے کہ ویکسین سے کووڈ 19 پر قابو نہیں پایا گیا تو اس کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں،آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہماری نسلوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ 20 سال کے دوران 3 کورونا وائرس انسانوں میں پھیل چکے ہیں، ان میں کووڈ 19، سارس اور میرس شامل ہیں۔ڈاکٹر اینارڈ نے یہ بھی بتایا کہ یہ تمام وائرس چمگادڑوں یا دیگر جنگلی جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئے، دیگر 4 قسم کے کورونا وائرس بھی پھیلے جن کے اثرات نسبتاً کم تھے۔

Share This Article