گریٹر کشمیر سے وابستہ صحافی مدثر علی دل کا دورہ پڑنے سے فوت

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/20نومبر: وادی کے معروف انگریزی روزنامہ کے ساتھ کام کرنے والا صحافی حرکت قلب بند ہونے کے نتیجے میں 37برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔ مرحوم کے انتقال کی خبر سن کر میڈیا فٹرنٹی کو دکھ پہنچا ہے ۔ اس دوران سماج کے مختلف طقہ ہائے فکر سے وابستہ شخصیات اور انجمنوں باالخصوص صحافتی برادری نے دکھ اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے سوگوارکنبہ کے ساتھ ہمدردی کااظہار کیا ہے ۔ ادھر انجمن اردو صحافتی ، ایوان صحافت کشمیر اور دیگر انجمنوں اور صحافتی ارادوں نے مدثر علی کی وفات پر سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے سوگوار کنبہ کے ساتھ ہمدردی کااظہار کیا ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر کے معروف انگریزی اخبار روزنامہ گریٹر کشمیر سے وابستہ صحافی مدثر علی حرکت قلب بند ہونے سے37برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ مدثر نے گذشتہ رات دیر گئے سینے میں درد کی شکایت کی اور اسپتال پہنچانے سے قبل ہی انہوں نے آخری سانس لی۔مدثر کی اچانک موت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی جس نے مدثر کے جاننے والے ایک وسیع حلقے کو سوگوار کیا۔مدثر کے برادر جہانگیر علی نے اپنے بھائی کے انتقال کی اندوہناک خبر فیس بک پر دی۔وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف قصبہ سے تعلق رکھنے والے مدثر کو صحافتی حلقوں میں رپورٹنگ کی علامت کے طور جانا جاتا تھا۔اس کے علاوہ مدثر ایک منجھے ہوئے تجزیہ نگاراور مدیر بھی تھے۔مرحوم کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقہ میں انجام دی گئی جہاں پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔مدثر کے انتقال پرزندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد اور انجمنوں نے گہرے دکھ،غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ باالخصوص صحافتی برادری نے مرحوم کے انتقال پر سخت دکھ اور افسوس کااظہار کیا ہے ۔ ادھر انجمن اردو صحافت، کشمیر پریس کلب اور دیگر انجمنوںنے مرحوم کے انتقال کو صحافت کیلئے ایک بڑانقصان قراردیتے ہوئے مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت کی ہے ۔

Share This Article